جمعہ, دسمبر 13, 2013

راہ یقین، زاویہ نگاہ، شہادت فی سبیل اللہ

کامیابی اور ناکامی کو مادے کے ترازو میں تولنے والے کبھی بھی مابعد الموت کی حقیقتوں پر یقین نہیں کر سکتے تو موت میں کامیابی پا جانے کے فلسفے کو کیسے سمجھ سکیں گے ، کبھی نہیں !

اس فلسفے کی جڑیں ایک طرف ایمان بالآخرۃ میں پیوست ہیں تو دوسری طرف اُس ذات پر لا زوال یقین کے دل کے نہاں خانوں میں گندھے ہونے کا تقاضا کرتی ہیں۔ نہ تو کمزور ایمان والا ایسی استقامت کااہل ہو سکتا ہے اور نہ ہی یقین کی راہ میں لڑکھڑانے والے یہ مقام عالی شان سہار پاتے ہیں !

راہِ ابراہیم تو بلال و خباب کا سا یارا مانگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گوشت ہڈیوں سے الگ ہوتا، پگھلتا ہے تو کامیابیوں کی نوید ملتی ہے،کہیں آل یاسر کو کہا جاتا ہے "صبرا صبرا یا آل یاسر ! آل یاسر صبر کرو تمہارا بدلہ جنت ہے!" پھر کہیں خبیب سامنے ہوتے ہیں " اگر انگ انگ کاٹ لیا جائے تو بھی گوارا نہیں ہے کہ نبیؐ کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب بعد شہادت شاہزادوں کو ایک کفن کا کپڑا بھی پورا نہ ہو تب مقام آتا ہے کہ خون کا قطرہ زمین پر بعد میں گرتا ہے مقامِ علیین پہلے دکھا دیا جاتا ہے۔

یہ اصحاب الاخدود کی راہ ہے!!

جہاں اجسام جلتے بھنتے ہیں تو ہی ارواح بلندیوں کا سفر طے کرتی ہیں۔ کامیابی کے معیارات یہاں طے ہوتے ہیں۔ جلنے مٹ جانے والے ، فنا کے سفر پر روانہ کر دیے جانے والے تب کامران اور سب سے بڑی کامیابی کے ٹھپے لگواتے نظر اتے ہیں اور مادہ پرستی کی جیت ، دو دن کے ''حاکم اعلیٰ'' کی فتح عظیم ناکامی  !!!

بس دیکھنے والی نظر چاہیے ! ایمان کے حقائق سے دنیا کو دیکھنے والی نظر ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیدہ عبرت نگاہ اور نور ایمان سے منور بصیرت الٰہی سے جڑی نگاہ بصیرت افروز۔ پھر شھید کے زندہ ہونے پر بھی حق الیقین ہو جاتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وعدوں کے برحق ہونے پر بھی ۔ پھر باطل کتنا پرشکوہ ہو جائے  نگاہیں کچھ اور ہی دیکھ رہی ہوتی ہیں ایک زیر لب مسکراہٹ اس سارے سطوت و جبروت کی خاک اڑاتی ہے! اور وعدوں پر ایسا لازوال یقین کہ نیزے کی انی سینے سے پار ہوتے ہوتے بے اختیار صدا نکلتی ہے " رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا"۔

عبداللہ بن جبیر، دربارِ حجاج میں گرجتے نظر آتے ہیں کہ حجاج آج طریقہ اختیار کر لو ، جس طریقے سے مجھے مارو گے تمہیں بھی اسی طریقے سے روز قیامت مارا جائے گا !!! افق کے اس پار دیکھنے والی نگاہیں تب موت کو ہی محبوب ترین چیز بنا چھوڑتی ہیں۔اورجس نے "اُس پار" جھانک لیا پھر وہ طعنوں باتوں اور فتوؤں سے کہاں رکتا ہے۔ تب یقینی موت کو گلے لگانے رخصت ہونے والا ہنستا اور "بچ جانے والے" روتے ہیں !!!

زبان کی وفاداریاں تو ہر دور کے عبداللہ بن اُبی بھی جتاتے رہے ہیں ۔ سید احمد سے احمد یاسین تک، عمر المختارسے شامل بسایوف تک ، اور سید قطب سے عبدالقادر مولہ تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شہداء ہیں جو اپنے خونِ رگِ جاں سے حق کی گواہی دیتے ہیں! شہادتِ حق کا سب سے بڑا درجہ اپنے خون سے ادا کر کے احساس دلاتے ہیں کہ امت کی خاکستر میں کچھ چنگاریاں شعلہ جوالہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں ابھی!!!

زبان رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا جاتا ہے: ""روز قیامت اہل عافیت آرزو کریں گے کاش ہمارے جسم قینچیوں سے کاٹ دیے جاتے پر آج ہمیں یہ مقام مل جاتا جو اہل بلاء و ابتلاء کو مل رہا ہے!!"" ( سلسلہ صحیحہ للالبانی)

ایک دار العمل ہے ایک دار الجزاء ہو گا ۔
اللہ کی رضا سب سے بڑی رضا ہے، اللہ کا صلہ سب سے بڑا صلہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں