سوموار، 4 فروری، 2013

کشمیر کی یاد میں !


کل ایک اور کشمیر ڈے ہے.  پرانے بورڈ پھر سے اسلام اباد ہائی وے کے اطرف میں کھڑے کر دیےگئے  ہیں جن پر حق خود ارادیت کی حمایت میں نعرے درج ہیں ۔ ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی اور پریس کلبز تک ریلیاں اور واکس ہوں گی ، حق تو یہ ہے کہ حق ادا ہو گیا!


          تین جنگیں کشمیر کے خواب دیکھ دیکھ لڑنے  اور نتیجتا رن آف کچھ سے لیکر کارگل تک علاقے گنوانے کے بعد  ،90 کا  ایک پورا عشرہ پورے ا سلامی جوش و جذبے سے جہادکشمیر کی آبیاری اور پچھلے عشرے میں اتنی ہی تندہی سے  اس کی بیخ کنی کے بعد، آج ہم اور "ہمارا" کشمیر  تجارتی بس سروس اور خیر سگالی کے بنتے مٹتے نشانات کے درمیان گھرا کھڑا ہے!


          کشمیریوںکی  تین نسلوں کو امید و بیم کے عذاب سے دوچار رکھنے کے بعد آج کشمیر یوں کا پاکستان یا پاکستان کا کشمیر سالانہ بیانات، کشمیر کمیٹی کے اجلاسوں اور کھوکھلی سفارت کاری میں کہیں دور  دفن ہو کر رہ گئے ہیں ۔ 48 میں قبائلی سرینگر کے دروازے پر تھے تو آگے بڑھنے کے احکامات کا گلا دبوچ لیا گیا، 65 میں جبرالٹر تو 99 میں  کارگل نے امید پیدا کی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔


          اور صورتحال یہ ہے کہ لاہور گوجرانوالہ سے لیکر کراچی حیدر اباد تک بلا مبالغہ ہزاروں جوانوںکا لہو کشمیر کو پاکستان بنانے کے لیے ایک ایسی جنگ میں بہہ چکاہےجو  ایک عشرے بعد شایدکسی سرے لگنے کے قریب تھی کہ اسے  سرحد پار دراندازی تسلیم کر کےتقریبا اس کا گلا دبایا ہی جا چکا ہے۔ ریاستی مفادات کے تحت جہاد کا نعرہ اس افسوسناک انجام سے کیوں دوچار ہوا، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن کشمیری ایک بار پھر اپنے مسیحاؤں کا ساتھ دینے پر پہلے سے کہیں زیادہ معتوب اور مظلوم ٹھہر چکے ہیں ، کیا وہ دوبارہ یہ غلطی کرنے کی ہمت کر پائیں گے!


          یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہمارے ازاد کشمیر سے کہیں زیادہ تعمیر و ترقی کروائی ہے ۔ زلزلے سے پہلے بھی یہ حقیقت بالکل واضح تھی اور زلزلے کے بعد تو خیر ہم اب تک صحیح طور سے  تعمیر نو بھی نہیں کر پائے ہیں ۔ لیکن کشمیری پھر بھی کبھی راولپنڈی چلو کا نعرہ لگاتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی کشمیر چھوڑ دو کی بات کرتا ہے ، کہیں شرائن بورڈ کے خلاف سینہ سپر ہوتا ہے تو کہیں ہاتھ میں پتھر اٹھائے کنٹرول لائن کی طرف مارچ کرتا ہے۔اور ہم بس اسی پر خوش کہ ان کے دلوں میں اب بھی پاکستان بستا ہے ، وہ ہمارے ہیں ہم ان کے ہیں ،خلاص!


          ہم نے کشمیریوں کو مایوس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔سفارت کاری یا عسکریت، دونوں میں سے ایک کام بھی تسلسل سے جاری رکھاجائے تو حل ناممکن نہیں ہوتا۔حال ہی میں فلپائن کی مسلم تحریک کے سامنے حکومت نے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ لیکن ہم نے مستقل مزاجی سے دونوں پٹریاں حسب منشائے امریکا بہادر بدلیں تو کبھی  تجارت اور اعتماد کی بحالی کے خوشنما نعروں میں کشمیریوں کو رول کر رکھ  دیا۔  سید علی گیلانی کی آنکھوں میں بے وفائی کا کرب دیکھنے کے لائق ہوتا ہے ، اور اب تو مدت عمر الحاق پاکستان کی مالا جپنے والے اس بزرگ نے گلہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔فوجی دور حکومت میں شاید وہ اسے مجبوری سمجھتے ہوں لیکن اسی پالیسی کا تسلسل "جمہوری انتقامی" حکومت میں بھی اسی شدت کے ساتھ جاری رہا ہے جو سب کے سامنے ہے ۔ توبار بار کے ازمائے کو کیا آزمانا!!  "تاریخی"قومی موقف ایک طرف،  سوال یہ ہے کہ کشمیری ہمارے ساتھ کیوں شامل ہوں؟؟   آزادی کا مطالبہ تو انسان کی فطرت ہے لیکن کیا الحاق پاکستان کے علاوہ آزادی کا کوئی راستہ طریقہ نہیں ہے؟؟


          پاکستان کی پالیسی قلابازیوں کے درمیان، اس وقت کشمیریوں کے پاس شاید سب سے بہترین آپشن یہی بچا ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ خو د مختاری کا مطالبہ بھی کریں ۔ حریت کانفرنس شاید یہ مطالبہ کبھی نہ کر سکے کیونکہ اس سے پاکستان کی نام نہاد رہی سہی سپورٹ بھی ختم ہونے کا خطرہ ہے لیکن موجودہ نسل جب پاکستانی حسن سلوک کا تجزیہ اور موازنہ کرنے بیٹھے گی تو شایدانہیں  اس کے علاوہ اور کوئی چیز بہتر نظر نہ آئے۔
          لیکن حل چاہتا کون ہے؟ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی سے یہ تلخ حقیقت پھر سے نکھر کر سامنے آ گئی ہے کہ دونوں ہی ممالک کی افواج مسئلہ کشمیر کے حل کا رسک نہیں لے سکتیں ۔ مسئلہ کشمیر ہی وہ بنیادی کاروبار ہے جس میں دونوں اطراف کے کروڑر کمانڈر اور جرنیل(سنگھ) حضرات پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں کیے بیٹھے ہیں ۔ وہ اس سونے کی چڑیا کو "حلال" نہیں کریں گے ۔ نہ کرنے دیں گے!!


          آثار نظر ا رہے ہیں کہ شاید کچھ دنوں تک جہاد کشمیر کے قریب المرگ گھوڑے میں پھر سے جان ڈلوائی جائے اورراہنمایان قوم ایک بار پھر سے اعلائے کلمۃ الحق کا وظیفہ کرتے نظر آئیں۔اس لیے اگلی دفعہ بھی شاہراہ اسلام آباد پر خیر سگالی کے یہی بورڈر کام آئیں گے اور ہم بھی انسانی زنجیروں کے کسی  ایسے ہی روح پرور منظر کا حصہ بن کر  کشمیریوں کو پیغام دیں گے کہ ہم تمہارے حق کے لیے ہزار سال تک لڑیں گے !

کشمیر بنے گا پاکستان



4 تبصرے:

  1. آہ۔
    الحاق پاکستان کے علمبرداروں کے ساتھ اس قوم نے جو سلوک کیا ہے اور جو رگڑا کشمیریوں کو لگایا ہے۔
    اس پر دل خّون کے آنسو روتا ہے۔
    اللہ کشمیر کو جلد از جلد آزادی حاصل ہو اور کشمیر اسلامی خلافت کے بازوءے شمشیر زن بن کر اٹھے امین

    جواب دیںحذف کریں
  2. اگر کبھی تقسیم ہند کے بعد کشمیر سے غداری کرنے والوں کی فہرست مرتب کی گئی تو مجھے یقین ہے کہ اس میں شیخ عبدللہ اور بخشی خلام محمد سے پہلے پاکستان لکھا جائے گا

    جواب دیںحذف کریں
  3. لیکن جناب
    اب ان تلوں میں تیل نہیں ہے،کہ حب دین میں ہم اپنی ایک اور نسل کشمیر کے کھیل میں پھونک دیں۔
    ہمارے دینی جذبات سے پہلے ہی اتنی بے دردی سے کھیلا گیا کہ اب ہمت نہیں ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. ہم کشمیریوں کے لیے دعا گو ہیں ۔ بہرحال ان کے دکھوں کی رات بہت طویل ہو چکی ہے۔ جس میں اپنوں کا حسۃ بھی کم نہیں ہے۔

    تمام "تبصرہ نگاران" کا شکریہ

    جواب دیںحذف کریں