بدھ, اگست 14, 2013

"اسلامی وطن پرستی"

           کون کہتا ہے مسلمان وطن پرست نہیں ہوتا اور اسلام وطن پرستی کی نفی کرتا ہے؟اسلام تو سبق دیتا ہے کہ وطن کے لیے لڑو اور مرو، کٹ جاؤ لیکن وطن پر آنچ نہ انے دو ۔ ۔ ۔ ۔لیکن ایک منٹ! وطن پرستی ہے کیا؟؟ قومیت نام کس چیز کا ہے؟؟

کیا رنگ؟؟نسل، علاقہ وطن ہے؟؟یا زبان اس کی بنیاد ہے؟؟
لیکن تم نہیں جانتے مسلمان کا وطن کیا ہے!تمہاری وطن کی گنتی تو 1924 کے باؤنڈری کمیشنز اور سائیکس پیکو معاہدے سے شروع ہوتی ہے !!!

 مسلمان کا وطن تمہیں سلمان فارسی بتا گیا ہے ، سلمان بن اسلام بن اسلام بن اسلام!

            صہیب رومی سے مثنی بن حارثہ تک ، اور ابو بکر صدیق سے لیکرخالد بن ولید تک، کس کس کا نام آتا ہے ، اپنے ہم علاقہ، ہم قبیلہ، ہم زبان، ہم رنگ اور ہم نسل انسانوں   کے خون کی ندیاں بہا دینے میں !! کیوں؟؟ یہاں سے تمہیں ان کا "وطن" بھی خوب پتہ چلتا ہے اور ان کی "وطن پرستی" اور "وطن" کے لیے جان دینے کا جذبے کا بھی !!

 بس وطن کے معنی درست کر لو ، قومیت کی بنیاد سمجھ لو ،پھر تم "قوم پرست" بنو یا "وطن" کے لیے لڑو مرو !! تمہارا دین تمہیں اس کی اجازت نہیں حکم دیتا ہے !

  گفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے
 
صاحبو !مسلمان اگر لڑتا ہے تو دار الاسلام کے لیے ، خواہ وہ اسے بچانے کے لیے لڑے یا قائم کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔۔ وطن پرست لڑے گا تو بنتی مٹتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے یا زبان رنگ نسل کی بنیاد پر اسے قائم کرنے کے لیے !!

سو سب وفاداریاں ، سب جان نثاریاں ، سب محبتوں کے جھرنے اخوت اسلام سے پھوٹیں تو وہ قابل قبول ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ افراد کی سطح ہو، قوم کا لیول ہو یا بین الاقوامی تعلقات ہوں !!!

اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیرو جوآں بے تاب ہو جائے

لوگو! انسانی اجتماعی تعلقات میں اس سے بڑا تصوراور کوئی نہیں ہے ، اس سے بڑے "قومیت" اور کوئی نہیں ہو سکتی اور اس سے بڑا "وطن" اور کوئی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست!!!
ہر ملک میرا ملک ہے کہ میرے خدا کی ملکیت ہے !!!

اور اگر میں اپنے خدا کی ملکیت سب سے پہلے خود پر تسلیم کرتا ہوں تو مجھے اسی خدا نے باقاعدہ سارے جہان پر یہ ملکیت تسلیم کروانے کا ٹھیکہ دیا ہے !!!

کسی کو برا لگتا ہے تو لگے ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ ذمہ داری خود قرآں میں محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لگائی گئی ہے ۔ ۔ ۔۔

ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ الکافرون(الصف)
رسول کو ھدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا کہ اس دین کو سارے ادیان پر غالب کر دے اور اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔

جس کو قرآن پر تنقید کی جرات ہو اور بات ہے ، لیکن قرآن سے ادنیٰ سا شغف رکھنے والا بھی دوستی اور دشمنی کی اس لکیر کے علاوہ کسی لکیر کا فقیر نہیں ہو سکتا، جسے قرآن حزب اللہ اور حزب الشیطان کے مابین قائم کرتا ہے ۔

اس حد کے علاوہ بس ایک ہی اور زمرہ ہے ، ایک ہی اور کیٹیگری ہے جسے نفاق کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دونوں طرف "یکساں" اور "برابری کی سطح پر" تعلقات کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے ۔ فتح اہل ایمان کی ہو تو ان کا دم بھرتے ہیں اور اگر اہل کفر کا پلڑہ بھاری نظر ائے تو ان کے سامنے قسمیں اٹھاتے نظر اتے ہیں !!اور ان میںگھسے چلے جاتےہیں کہ کہیں کوئی افتاد نہ آن پڑے!!

مبارک ہیں وہ لوگ جو ایمان کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی کا سب سے مضبوط کڑا تھامے اس کے لیے ہر سطح پر ہر طرح کی مشکلات خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں ۔ ہجرت، دربدری، زخم اور  قتل کونسا پہاڑ ہے جو ان پر نہیں توڑا گیا لیکن وہ قائم ہیں!

 اورخبر ہو ان غافلوں کو جو اخوت اور محبت کے اس عالمگیر تصور کو چند لکیروں کا فقیر بنائے بیٹھے ہیں،رنگ برنگے جھنڈوں اور ترنگوں کا اسیر کیے ہوئے ہیں اور چند برس پرانے ان خانوں اور جھنڈوں کے تقدس کے لیے جان بھی قربان کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں!!

لوگو! اسلام کا دامان عافیت قیامت تک تمہیں پکارتا ہے،وحدت کی ان بنیادوں کی طرف پلٹ آنے کے لیے جو انسانیت کے سب سے بڑے محسن نے قائم کی تھیں ، اور اس کے ساتھیوں نے انہیں ساری دنیا میں پھیلا دیا تھا۔

انسان کی عظمت ، انسان کے کھینچے ہوئے نقشوں اور جھنڈوں کی غلامی میں نہیں ان سے آزادی میں ہے ۔۔۔۔ اس کی عزت اگر ہے تو صرف مالک الملک کی بندگی ،اسی کی غلامی اور اطاعت میں ہے۔

باقی سب فانی ہے ، انسان ہوں یا ان کے خود ساختہ دستور اور عارضی سرحدیں !!
سو بقا کا دامن تھام لو، ڈوبنے والی کشتیاں سواروں کو نہیں بچایا کرتیں!!

سروری زیبا فقط اسی ذات بے ہمتا کو ہے
اک وہی ذات الٰہ باقی بتان آزری

ہفتہ, اگست 10, 2013

بات کریں تو کس سے کریں ہم

بات کریں تو کس سے کریں ہم

دنیا والو کس سے کہیں ہم

آج کے دن یہ چاروں طرف جو

عید کا رونق میلاہے

جس میں قہقہے گونجتے ہیں

دل میں نغمے پھوٹتے ہیں


آج کے دن میں بچھڑے لوگوں،

گزرے لمحوں ، بیتی یادوں

اور اشکوں کی برسات کا

اک سیلاب کی صورت

انکھوں کے ہر ایک دریچے

دستک دینا ٹھہر گیا ہے !


بکھرے قہقہوں ، پیاری باتوں

گزری یادوں ایسے ہم دم

عید کے رونق میلے میں

جب بھی ملنے آتے ہیں

اور بھی تنہا کر جاتے ہیں!!!


عبداللہ آدم

09/08/13