جمعرات، 14 فروری، 2013

دو منظر ایک سٹیٹس


بلاگ پوسٹ صادر ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا ( ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے تو بالکل بھی نہیں)، پھر مزید" افاقہ" تب ہوا جب کئی احباب نے ہمیں تاریخ ویلنٹائن ایک بار پھر سے ازسرنو ازبر کروا کےشکریے کا موقع دے دیا۔ مسئلہ لیکن دو عدد مناظر اور ایک عدد فیس بکی سٹیٹس سے ہوا جن کا ذکر آگے آئے گا۔ ابتدا میں البتہ یہ ذکر برمحل ہو گا کہ سارا سوشل میڈیا کل رات سے آج رات تک عید محبت کی حقیقت کھول کھول کر بیان کرنے کی محنت شاقہ میں مصروف ہے، مضامین سے لیکر پوسٹرز اور تصاویر سے لیکر سلوگن اور جانے کیا کیا کچھ۔ سب اس کو برا سمجھتے ہیں ،آزادانہ اختلاط کو جائز کوئی بھی نہیں رکھتا،اگرچہ دروغ برگردن راوی آج ایک محترمہ نےکسی ٹی وی چینل پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت خدیجہ سے شادی کو یوم محبت کی دلیل بنانے کی کوشش فرما بھی دی ہے لیکن بہرحال یہ استثنائی "کیفیات"  ہیں ،عموما ابھی تک  خود اس میں گٹوں گوڈوں تک ڈوبےمنڈے کھنڈے یا  احباب و اصحاب بھی اسلام کو بہرحال اپنے طرز عمل کے لیے زحمت نہیں دیتے۔

         
          میں نے آپ نے  بھی شاید ہی کسی دن خاص اس دن کی نسبت سے کوئی تقریر وعظ وغیرہ سنا ہو کسی ملا ملانے کا،  لیکن بنیادی اقدار اور اخلاقیات ایسی "چیزیں" اور پھر اسلامی اخلاقیات (عرف "خاص" میں غیرت برگیڈ) ،یہ سب ہمیں ایک حد تک رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں ۔ اندر سے  ایک آدھ آواز ضرور آجاتی ہے! ۔ وجہ یہ کہ ہماری نسل نے اپنے بڑوں اور ماحول سے ایک غیر محسوس طور پر یہ چیزیں حاصل کیں اور دلائل اور اپنے طرز عمل سے سے قطع نظر آج ہم جائز ناجائز کی انہیں حدود قیود کو پسند کرتے ہیں۔


          لیکن اب ماحول ویسا نہیں رہا، گلوبل ولیج کی "آنیاں جانیاں" بہت کچھ بدل رہی ہیں۔ اب بچے  بڑوں سے زیادہ ماحول سے سیکھ رہے ہیں ، اور بڑے بھی پہلے کی طرح بچوں کو سکھانے میں مستعد نہیں ہیں ۔ کمانے کھانے کی فکر تک تواولاد کی تربیت اب بھی کی جاتی ہے، اور ایسی کہ باید و شاید۔۔۔۔ لیکن "بندے کا پتر" بننے کے عمل میں اس بے چارے  کو بڑی حد تک آزاد چھوڑدیا جاتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کیریر منتخب کرنے میں بچے آزاد ہیں ، ایسے ہی اپنا صحیح غلط بھی خود یکھ لیں گے! اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ والدین بچوں کو اور ان کے ماحول کو خود اپنے ماحول پر قیاس کرتے ہیں کہ جیسے انہوں نے سیکھا تھا یہ بھی سیکھ جائیں گےاور وہی اقدار و روایات جو ان کی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے!

         
          آج پیدل چلنے کا موڈ بنا تو پیدل ہی صدر کی طرف چل نکلا ، راستے میں تیسری چوتھی کلاس  کے سکول سے واپس   آتے بچوں سے ٹاکرا ہوا جبکہ ان کا ٹاکرا کالج سے گھر جاتی ایک لڑکی سے ہو رہا تھا۔سب نے  ہاتھوں میں موجود پتیاں محترمہ کے اوپر پھینکیں اور باجماعت ہیپی ویلنٹائن ڈے کا نعرہ لگادیا۔ یہ بچے اپنے ارد گرد سے سب ہضم کر رہے ہیں اور کیپیٹل ازم کے کولہو میں بیل کی طرح جتے والدین انہیں وہ کچھ دے نہیں پا رہے ہیں جو آگے چل کر انہیں اپنی بنیادوں سے مربوط رکھ سکےگا۔ اور یہ وہ خلا ہے جو وہی پر کر سکتے ہیں ان کے علاوہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ بچے جو والدین سے ،اور جیسا والدین سے سیکھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر وہ سکھانے والے بنیں تو!


          آج سے 15 20 سال پہلے تک ہم بہت سے ان اوزون لیئرز کے ساتھ زندہ تھے جو مہلک تابکاری اثرات کو ہم سے کافی دور رکھنے پر قادر تھیں ، لیکن اب  میڈیا کی اخلاقی حدود و قیود سے آزادی، موبائل فون جیسی نعمت غیر مترقبہ اور  انٹرنیٹ جیسے "ملٹی پرپز" کلوروفلورو کاربنز (CFC)نے ہمارا "ڈائریکٹ ایکسپوژر" شروع فرمایا ہوا ہے!! ہمارے خاندانی نظام کے تاروپود گزشتہ دس برسوں میں  بکھرتے دیکھے جا سکتے ہیں ، ہاں اتنا ہے کہ یہ سب کچھ یکبارگی نہیں سنار کی ٹھک ٹھک کے حساب وقوع پذیر ہو رہا ہے اس لیے "سنائی" ذرا کم دیتا ہے۔


          ایک سال بعد ہمیں شرم و حیا کا پرچار یاد آتا ہے ، ایسے ہی جیسے میلاد النبی پر دھوم دھڑکا کرکے اگلے ربیع الاول تک عشق رسول "پینڈنگ" لسٹ میں ، پھر راوی اور سکون اور چین! ۔ بچوں کو صرف اسی پہلو سے نہیں ، ان تمام پہلوؤں سے جن پر میڈیا انہیں سکھانے پڑھانے کی پوری کوشش کر رہا ہے ، وعظ و تبلیغ کی بجائے ٹھیک اسی انداز میں گائیڈ کرنے کی شدیدضرورت ہے جن خطوط پر میڈیا غیر محسوس انداز میں زہر انڈیلتا ہے۔کبھی آپ نے ایک موضوع کے طور پرپردے  کو ڈسکس ہوتے دیکھا چینلز پر! بہت ہی کم، لیکن عملا جو دکھایا جاتا ہے وہ خود ہی آمادہ" عمل" کر ڈالتا ہے ، کیا ضرورت ہے دلائل کےجھنجھٹ میں پڑنے کی ، بی پریکٹیکل! سو بچوں کو والدین کی راہنمائی کی  جتنی ضرورت آج اس پہلو سے ہے ،شاید پہلے نہ تھی۔ ویلنٹائن ڈےتو  اصل چیلنج کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے ،ٹپ آف دی آئس برگ کی طرح ۔


          یہ رویہ اب ہم بہت دیکھ لیے کہ"کچھ نہیں ہوتا" اور "خیر ہے اس سے کیا ہوتا ہے؟"۔  کم از کم گزشتہ دس سالوں میں جو تبدیلی ہم نے  دیکھی ہے اور جتنی تیزی سے اس کو مزید آگے جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، اس کے بعد ہمیں یہ "مٹی پاؤ" ڈاکٹرائن ترک کر دینا چاہیے۔ ورنہ اباحیت اور جنسی آوارگی کی کوئی حدود متعین نہیں ہیں ۔ 20 کروڑ کے ملک میں ایک آدھ فیصد کو چھور کر کوئی بھی اس طرف نہیں چاہتا جہاں مغرب کا اخلاقی نظام "پہنچ" چکا ہے، لیکن اس کے لیے شعوری کوشش چاہیےصاحب! گر یہ نہیں ہے بابا تو سب کہانیاں ہیں۔


          فیس بک پر ایک تصویر آج کافی گردش میں ہے جس میں ایک  پارک میں سورہ نور کی آیت کا بورڈ لگا ہے اور اس کے عین نیچے دو نوجوان ایک بینر لیے کھڑے ہیں جس پر دو عدد" مورحضرات "بنے ہیں اورتحریر ہے کہ "قریب آنے دو، پیار ہونے دو"!۔ ان کے نزدیک یہ محض شغل میلا رہاہو گا اور حضرت مفتی صاحب کی طرف سے اس پر فتوی بھی بڑے  آرام سے جاری ہو سکتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں سوچے گا کہ یہ لاعلمی ہے تو کس کا قصور ہے؟ والدین  تو عقیقہ پر بکرا دلوا کر اور ایک ناظرہ قرآن پاک  کے ختم پر قاری صاحب کو سوٹ تحفے میں دے کر مسلمانی کے حق سے سبکدوش ہو گئے، اور مولانا صاحب جمعے میں نور بشر اور رفع الیدین آمین پر خطیب دوراں کا خطاب پا گئے ۔۔۔۔ اور یہ" مسلمان کی اولاد"گواچی گاں کی طرح "جائیں تو کہاں جائیں" کی تصویر!  شاید ہم اس وقت کے انتظار میں ہیں جب مصر کی طرح یہاں بھی یونیورسٹیز میں اسلام کا اتنا کال پڑ جائے گا کہ نماز کے لیے جگہ تک مختص نہیں ہوا کرے گی (جب پڑھے گا کوئی نہیں تو ایسی بےکار جگہوں کا کوئی مفید مصرف تو ڈھونڈ ہی لیا جاتا ہے !) اور جامعہ ازہر کی طرح یہاں تہاں مساجد و منبرپر مسند نشین اسلام کو اس کی کوئی پروا نہ ہوگی، گمراہوں کی پروا ویسے بھی کیا کرنی!


          سونے پر سہاگہ وہ ٹیپ کا مصرعہ ہےجو آج بھی ایک سٹیٹس پر دیکھا کہ " اس یلغار کا مقابلہ مساجد کے منبر و محراب ہی سے کیا جا سکتا ہے!"۔ ماشاء اللہ میڈیا کے 100 سے اوپر چینلز پلس انٹرنیٹ کی حشرسامانیاں  اور منبر و محراب سے مقابلہ! مندرجہ بالا سلوگن کو  ہر طبقے میں بڑا پسند کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے اپنی اپنی وجوہات ہیں ، مذہبی حلقے اس لیے کہ وہ پہلے ہی یہ کام کر رہے ہیں ، مبنر و محراب ہی تو سنبھالے ہوئے ہیں اور کیا کریں ۔۔۔۔ کیا کوئی اور یہ سنبھال سکتا ہے ، بھئی شکریہ ادا کرو ان کا،پنج وقتہ نماز تک رک جائے گی لوگوں کی!! اوردوسری طرف معاشروں کی نبضیں دیکھتے   اور پالیسیوں پر حسب منشا اثر اندز ہوتے گھاگ"دانشور" بھی تو اس عظیم کردار پر مطمئن ہیں۔ وہی  جو یہ چاہتے ہی نہیں برملا اعلان بھی کرتے ہیں کہ :پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے۔۔۔۔۔ انہیں اس سے بہتر اور کیا چاہیے کہ جس اسلام کو بڑی مشکل سے کھینچ کھانچ کر مسجد تک محدود کیا تھا ، خود اسی کے "مستند نمائندے" اپنا دائرہ کار منبر و محراب کو قرار دے رہے ہیں ۔  تو اور کیا! کتنے فیصدی  لوگ  مساجد میں دروس اٹینڈ کرتے ہیں؟؟ اور کتنے فیصد کا اعتبار کسی عالم  اور اس کے علم پر اتنا ہے کہ وہ مسائل زندگی میں ان سے راہنمائی چاہیں؟؟ اور اس پر طرہ تو یہ کہ خود علماء کہلانے والے کتنے ہیں جو راہنمائی کرنے کے قابل بھی ہوں !! جنہیں اپنے مسلکی جھگڑوں سے اوپر بھی کوئی سوچ فکر نصیب ہو اور جو جدید دنیا اور اس کے مسائل بارے جانکاری رکھتے ہوں ! کتنے ہیں ؟؟


          پھر عشروں کے عشرے منبر و محراب سے الحاد و بے دینی اور اباحیت و بے حیائی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کی ناگزیر ضرورت کا درس اور "پانی سر سے گزر چکا" کے الارم۔۔۔ بمقابلہ آزاد میڈیا کے چند سال ! لوگ آپ تک کہاں آئیں گے ، میڈیا ہی کو دیکھ لیں جو گھروں میں گھسا ہے پھر اب جو دکھاتا ہے دیکھتے ہیں! آپ کو لوگوں تک جانا ہے ،ہر ممکن ذریعے سے ۔۔۔  اپنے قدموں پر چل کر جانے سے لیکر  ہوا کی لہروں کے دوش سمع و بصر کے ذریعے، غیر اسلام کے  آنے  کے ہر راستے پر اسلام کو کھڑا تو کریں کریں! پھر دیکھیں لوگوں کی فطرت جاگتی ہے یا نہیں !!۔۔۔۔ لوگوں کو بلانا ہےاور بتانا ہے کہ یہ دین کسی قسم کی پاپائیت کا تصور نہیں رکھتا، جتنا جتنا جس کا علم ہے وہ اس کے لیے ذمہ دار ہے اور اہل علم اس بات کے اضافی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے علم میں اضافہ کریں ، حق کو چھپائیں ناں اور باطل کے لیے مداہنت پر راضی نہ ہوں ۔ ہاں !صاحبان منبر و محراب بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں اگر وہ تھوڑا سا زحمت فرما کرمحض وعظ سنانے کے علاوہ لوگوں کے مسائل میں شریک بھی ہونا شروع کر دیں  اور اس بڑے طبقے  تک خود پہنچیں جو کسی بھی وجہ سے ان تک نہیں پہنچتا۔ عکاظ کے بازار اور طائف کے خون آلود راستےآج بھی یہی دعوت عمل دے رہے ہیں!

سوموار، 4 فروری، 2013

کشمیر کی یاد میں !


کل ایک اور کشمیر ڈے ہے.  پرانے بورڈ پھر سے اسلام اباد ہائی وے کے اطرف میں کھڑے کر دیےگئے  ہیں جن پر حق خود ارادیت کی حمایت میں نعرے درج ہیں ۔ ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی اور پریس کلبز تک ریلیاں اور واکس ہوں گی ، حق تو یہ ہے کہ حق ادا ہو گیا!


          تین جنگیں کشمیر کے خواب دیکھ دیکھ لڑنے  اور نتیجتا رن آف کچھ سے لیکر کارگل تک علاقے گنوانے کے بعد  ،90 کا  ایک پورا عشرہ پورے ا سلامی جوش و جذبے سے جہادکشمیر کی آبیاری اور پچھلے عشرے میں اتنی ہی تندہی سے  اس کی بیخ کنی کے بعد، آج ہم اور "ہمارا" کشمیر  تجارتی بس سروس اور خیر سگالی کے بنتے مٹتے نشانات کے درمیان گھرا کھڑا ہے!


          کشمیریوںکی  تین نسلوں کو امید و بیم کے عذاب سے دوچار رکھنے کے بعد آج کشمیر یوں کا پاکستان یا پاکستان کا کشمیر سالانہ بیانات، کشمیر کمیٹی کے اجلاسوں اور کھوکھلی سفارت کاری میں کہیں دور  دفن ہو کر رہ گئے ہیں ۔ 48 میں قبائلی سرینگر کے دروازے پر تھے تو آگے بڑھنے کے احکامات کا گلا دبوچ لیا گیا، 65 میں جبرالٹر تو 99 میں  کارگل نے امید پیدا کی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔


          اور صورتحال یہ ہے کہ لاہور گوجرانوالہ سے لیکر کراچی حیدر اباد تک بلا مبالغہ ہزاروں جوانوںکا لہو کشمیر کو پاکستان بنانے کے لیے ایک ایسی جنگ میں بہہ چکاہےجو  ایک عشرے بعد شایدکسی سرے لگنے کے قریب تھی کہ اسے  سرحد پار دراندازی تسلیم کر کےتقریبا اس کا گلا دبایا ہی جا چکا ہے۔ ریاستی مفادات کے تحت جہاد کا نعرہ اس افسوسناک انجام سے کیوں دوچار ہوا، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن کشمیری ایک بار پھر اپنے مسیحاؤں کا ساتھ دینے پر پہلے سے کہیں زیادہ معتوب اور مظلوم ٹھہر چکے ہیں ، کیا وہ دوبارہ یہ غلطی کرنے کی ہمت کر پائیں گے!


          یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہمارے ازاد کشمیر سے کہیں زیادہ تعمیر و ترقی کروائی ہے ۔ زلزلے سے پہلے بھی یہ حقیقت بالکل واضح تھی اور زلزلے کے بعد تو خیر ہم اب تک صحیح طور سے  تعمیر نو بھی نہیں کر پائے ہیں ۔ لیکن کشمیری پھر بھی کبھی راولپنڈی چلو کا نعرہ لگاتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی کشمیر چھوڑ دو کی بات کرتا ہے ، کہیں شرائن بورڈ کے خلاف سینہ سپر ہوتا ہے تو کہیں ہاتھ میں پتھر اٹھائے کنٹرول لائن کی طرف مارچ کرتا ہے۔اور ہم بس اسی پر خوش کہ ان کے دلوں میں اب بھی پاکستان بستا ہے ، وہ ہمارے ہیں ہم ان کے ہیں ،خلاص!


          ہم نے کشمیریوں کو مایوس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔سفارت کاری یا عسکریت، دونوں میں سے ایک کام بھی تسلسل سے جاری رکھاجائے تو حل ناممکن نہیں ہوتا۔حال ہی میں فلپائن کی مسلم تحریک کے سامنے حکومت نے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ لیکن ہم نے مستقل مزاجی سے دونوں پٹریاں حسب منشائے امریکا بہادر بدلیں تو کبھی  تجارت اور اعتماد کی بحالی کے خوشنما نعروں میں کشمیریوں کو رول کر رکھ  دیا۔  سید علی گیلانی کی آنکھوں میں بے وفائی کا کرب دیکھنے کے لائق ہوتا ہے ، اور اب تو مدت عمر الحاق پاکستان کی مالا جپنے والے اس بزرگ نے گلہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔فوجی دور حکومت میں شاید وہ اسے مجبوری سمجھتے ہوں لیکن اسی پالیسی کا تسلسل "جمہوری انتقامی" حکومت میں بھی اسی شدت کے ساتھ جاری رہا ہے جو سب کے سامنے ہے ۔ توبار بار کے ازمائے کو کیا آزمانا!!  "تاریخی"قومی موقف ایک طرف،  سوال یہ ہے کہ کشمیری ہمارے ساتھ کیوں شامل ہوں؟؟   آزادی کا مطالبہ تو انسان کی فطرت ہے لیکن کیا الحاق پاکستان کے علاوہ آزادی کا کوئی راستہ طریقہ نہیں ہے؟؟


          پاکستان کی پالیسی قلابازیوں کے درمیان، اس وقت کشمیریوں کے پاس شاید سب سے بہترین آپشن یہی بچا ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ خو د مختاری کا مطالبہ بھی کریں ۔ حریت کانفرنس شاید یہ مطالبہ کبھی نہ کر سکے کیونکہ اس سے پاکستان کی نام نہاد رہی سہی سپورٹ بھی ختم ہونے کا خطرہ ہے لیکن موجودہ نسل جب پاکستانی حسن سلوک کا تجزیہ اور موازنہ کرنے بیٹھے گی تو شایدانہیں  اس کے علاوہ اور کوئی چیز بہتر نظر نہ آئے۔
          لیکن حل چاہتا کون ہے؟ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی سے یہ تلخ حقیقت پھر سے نکھر کر سامنے آ گئی ہے کہ دونوں ہی ممالک کی افواج مسئلہ کشمیر کے حل کا رسک نہیں لے سکتیں ۔ مسئلہ کشمیر ہی وہ بنیادی کاروبار ہے جس میں دونوں اطراف کے کروڑر کمانڈر اور جرنیل(سنگھ) حضرات پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں کیے بیٹھے ہیں ۔ وہ اس سونے کی چڑیا کو "حلال" نہیں کریں گے ۔ نہ کرنے دیں گے!!


          آثار نظر ا رہے ہیں کہ شاید کچھ دنوں تک جہاد کشمیر کے قریب المرگ گھوڑے میں پھر سے جان ڈلوائی جائے اورراہنمایان قوم ایک بار پھر سے اعلائے کلمۃ الحق کا وظیفہ کرتے نظر آئیں۔اس لیے اگلی دفعہ بھی شاہراہ اسلام آباد پر خیر سگالی کے یہی بورڈر کام آئیں گے اور ہم بھی انسانی زنجیروں کے کسی  ایسے ہی روح پرور منظر کا حصہ بن کر  کشمیریوں کو پیغام دیں گے کہ ہم تمہارے حق کے لیے ہزار سال تک لڑیں گے !

کشمیر بنے گا پاکستان