سوموار، 21 اپریل، 2014

کچھ بھائیوں دوستوں کی نذر

گزرنے والے سب دنوں میں
دن کے مشکل ان پَلوں میں،
جن کا نقشہ زباں سے کھینچوں ،
تو چُوک جاؤں!

اُن دنوں میں ان پلوں میں
یاد آنے کی انتہائیں
دل سے نکلی سب دعاائیں
اپنے اُن دوستوں کا صدقہ،
جو رات دن کے عظیم ہیکل کی سیر کرنے
اجنبی منزلوں کی جانب،
اک تھکاوٹ بھرے سفر کا
آج بھی زاد راہ ہیں،
ہمسفر ہیں، دل کی چاہ ہیں!

جو سر کو سجدوں میں دیر تک گرائے
خدا سے گر کچھ بھی مانگتے تھے
تو خود سے پہلے وہ زبانیں
ہمارے ناموں پہ لڑکھڑاتیں
خود سے پہلے ان کے آنسو
!ہمارے ناموں پہ گرتے رہتے

کہ جن کی معیت میں
ہم نے سیکھا
نظر بچا کر سر جھکا کر
اپنا حصہ بھی دوستوں کو
ایک لمحہ رُکے بِنا دان کر کے،
خوشی کی اس انتہا کو پانا،
جس کا نقشہ
زباں سے کھینچوں تو چُوک جاؤں!

جن سے ہم نے لا الٰہ کا
"راہ حق میں سر کٹا" کا
سیل باطل میں سدِ راہ کا
ایک ایسا سبق لیا تھا
جو آج بھی عشق کا قرینہ
جو آج بھی نغمہ بقا ہے
جو اج بھی زندگی کا مقصد
جو آج بھی دل کا رہنما ہے!
گزرنے والے سب دنوں میں،
دن کے مشکل ان پَلوں میں
جن کا نقشہ زباں سے کھینچوں
تو چُوک جاؤں !!!

عبداللہ آدم
21 اپریل 2014