اتوار, مارچ 3, 2013

کچن میں پڑنا


تو صاحبان عدل و انصاف، یہ ان دنوں کی بات ہے جب "انقلاب پاکستان " متعدد کوسٹروں اور ایک لش پش لینڈ کروزر کی قیادت میں لاہور سے روانہ ہو چکا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ اسی دن مام ڈیڈ ایک وفات کی وجہ سے سرگودھے جانے پر مجبور ہو گئے اور ہمیں اس شہر بے اماں میں اکیلا چھوڑ گئے، اب ہم تھے اور ہماری تنہائی۔  ان تین دنوں میں یا تو چوکوری ابلاغی ڈبہ تھا یا پھر کچن! کچن اس لیے کہ حلق کو سیراب اور پیٹ کو شاداب کیے بغیرکچھ بھی ہرا ہرا نہیں لگتا ، پاک نیٹ بھی نہیں۔فیس بک تو ویسے ہی نیلی ہے۔


          یاد نہیں کبھی کچنی مصنوعات بارے سوچا بھی ہو، بس چائے بنانا اپنی دانست میں آتی تھی (ہے!) اور توس سینکائی سے جیم لگائی تک اپنے کچنی تصرفات ختم ہو جاتے ہیں ، جیسا کہ اکثر مرد حضرات اپنی سرشت میں بقول خواتین کے "نان کوا آپریٹو" واقع ہوتے ہیں اور ہم نے تووہ کیا کہتے ہیں  ابھی شادی وادی بھی نہیں بنائی ۔  خیر ان تین دنوں میں یہ عجیب سا رجحان جسے ضرورت ایجاد کی ماں کا نام بھی دیا جا سکت ہے اور ہڈ حرامی کے اعلیٰ درجات پر فائز ہونے کی "پاداش" بھی جہا جا سکتا ہے(( اب کوئی سگھڑ پن نہ کہہ دے:ڈڈ)) ۔۔۔۔۔ کہ ہم جیسے خانہ خراب کی توجہ کچن کا خانہ خراب کرنے کی طرف ہو گئی۔ ہاں تو اور کیا!اب کون روز بریڈ اور انڈے یا نان چنے یا حلوہ پوری یا فلاں فلاں لے کر آئے اور اگلی بھوک پر فیر ایہی کشٹ! کیوں نا کچن میں طبع آزمائی کی جائے ((اگرچہ بعد میں یہ زورآزمائی ثابت ہوئی))۔


          صبح صبح ( میر امطلب کم از  11 بجے کے بعد )اٹھ کر اور کچھ نہ سوجھا تو دو عدد نان بلےکے تندور سے لانے کے بعد چائے بنانے کی سوجھی۔ شاید اس جذبہ عمل کا محرک یہ تھا کہ چائے برائے فروخت تو ہوتی ہے برائے پارسل نہیں دیکھی گئی۔ایک حل یہ بھی ہو سکتا تھا کہ نان لے کر کسی ہوٹل کی راہ لی جاتی ، اللہ اللہ خیر سلا۔ لیکن اب تو گھر تشریف آور ہو چکے تھے اور ایک دفعہ گھرآنے کے بعد دوبارہ صرف "اتی" سی بات کے لیے ہوٹل ایک دشوار گزار سا کام لگتا ہے۔ چائےازمنہ وسطی میں  پہلی دفعہ نانا جی کی فرمائش پہ رات کے کسی ایسے ہی پہر بنائی تھی جب وہ سو کر اٹھ گئے تھے اور ہم کسی نسیم حجازی ناول کا اخیر کرنے کو تھے، باقی سب تو ٹھیک رہا تھا لیکن پتی "قدرے" زیادہ ہو گئی اور پھر جب نانا جی کے ساتھ خود بھی اسے نوش جان فرمایا تو ۔۔۔۔ خیر جناب صبح کا مینیو یہی طے کیا کہ آسان کام ہےاور کافی عرصے بعد ٹرائی کی لیکن چائے گزارے لائق بن گئی اور پسند کی گئی اسی نےآگے چل کر  مطبخانہ عزائم کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔


دوپہرکو فریج سے ایک آدھ چیز برآمد ہو گئی اوررات آئی تو  موت کا پیغام آ گیا۔ میرا مطلب رات تنی دیر کر دی حسب معمول کہ جب آنتیں ایسے ایک دوسرے کو کاٹنے لگیں جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے تواب اماں تو ہیں  نہیں جو کہیں "پتر کی کھانا اے" .۔۔۔ ہائے ! مائے نی میں کنوں آکھاں ۔ خیر رات کو فریج سے کچھ چاول برآمد ہو گئے اور اوون کام آگیا۔ 


صبح آملیٹ بنانے کی کوشش کی گئی ، انڈہ پھینٹ کر مرچیں دھونکیں اور نمک ڈال کر سارا ملیدہ اوپر چولہے کے ۔۔۔۔یہی ترکیب اگلی صبح جب میٹھا انڈہ بنانے کے لیے آزمائی تو منہ کی کھائی ۔ توے پر میٹھا انڈہ بنانے کے چکر میں اور پھر مزید "لذیذ" بنانے کے لیے اس میں ملائی بھی ڈال دی اور اسے "پکنے دیا" کہ کچا نہ رہ جائے اور بدمزہ معلوام نہ ہو۔وہ تو جب انڈے بیچارے نے "سی سی" شروع کی تو دیکھا کہ "برننگ انجری" واقع ہو رہی تھی!  اتارتے اتارتے کوئی 40 فیصد انڈا ، انڈا کم اور کباب کا منظر زیادہ پیش کر رہا تھا۔ بہرحال بندے نے کھایااور اس معرکے پر پھولا نہ سمایا۔


دوپہرکو اس طرح ناغہ ہوا کہ صبح دوپہر کا اکٹھا "ناشتہ کم لنچ" کیا تھا اور شام کو نظر تھی شامی کباب پر! جی آمیزہ تیار تھااور ہمیں بزعم خود اس کے بنانے کی ترکیب بھی  آتی تھی  ۔یہ ترکیب جب لڑا کر "لذیذاور خستہ"  شامی کھا کر خوش بھی ہو لیے تو اماں کا فون آیا، بڑے فخر سے کارگزاری بیان کی کہ خو پکاکر کھا رہا ہوں ۔۔۔۔ "ذرا مجھے بھی تو بتا کیا بنایا ہے "۔اب جو ترکیب بیان کی ہے تو "لیکن اماں وہ کچھ کچھ کچے لگ رہے تھے"  ۔ " انہیں آئل میں تلانہیں تھاکیا؟"، "نہیں بس انڈے میں ٹکیاں ڈال کر توے پر تل لی تھیں " :ڈڈ۔۔۔۔"آئل میں تلتے ہیں بےوقوف! توے کا بھی ناس مار دیا ہو گا"،  بس اس کے بعد کئی دفعہ حلیم مصالحہ کی ڈبیا پر لکھی ترکیب دیکھ کر سوچتا رہا ہوں حلیم بنانا سیکھ لوں اماں سے ،اور سیکھ بھی لوں  لیکن موقع بموقع تبصروں کو ہضم کرنا اپنے بس کی بات نہیں ہے بابا!!

8 تبصرے:

  1. آپ کی کوکنگ ہسٹری پڑھنے کے بعد مشورہ یہی ہے حلیم پکانے کے بعد کھایئے گا مت! اگر کھا ہی لی تو ہیضے کا بندوبست پہلے ہی کر لینا

    جواب دیںحذف کریں
  2. کیا مطبخانہ پوسٹ ہے سرکار۔
    ہمت کر کے پکائیے جو دل چاہے۔ کچھ نہ کچھ تو حاصل ہو گا ہی۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. شکر ہے آپ کو کچھ تو آتا ہے مجھے تو انڈا تلنا بھی نہیں آتا

    جواب دیںحذف کریں
  4. جاپانی انکل ! آپ فکر نہ کریں ، میں پورے حفظ ماتقدم انتظامات کے بعد ہی یہ انقلابی قدم اتھاوں گا۔

    مانی بھائی ! حوصلہ افزائی کا شکریہ ، ائندہ بھی اپ کو اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا اس پر پیش رفت سے :)

    جواب دیںحذف کریں
  5. محمد ریاض شاہد صاحب ! بلاگ پر خوش آمدید

    آُ بھی میری طرح "پٹھے سدھے" شروع ہو جائیں ، رب سوہنے نے چاہا تو ایک دن ماہر کک بلکہ وہ کیا کہتے ہیں "شیف" بن جائیں گے۔ جیتے رہیں ۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. بہت خوب جناب آپ تو ماہر کک ہونے کے قریب پہنچ چکے (پہلا قدم تو اٹھا لیا ہے نا ) جلد آپ کی والدہ حضور آپ کے سگھڑ پن کے قصے سنا سنا کر ایک چاند سی دلہن کی تلاش ہم
    شروع کر دیں گی۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

    جواب دیںحذف کریں
  7. جب یہ سب کچھ گزرا۔ تب آپ کی عمر کتنی تھی؟

    جواب دیںحذف کریں
  8. جوانی پٹا صاحب اس سب کچھ کے ظہور کے وقت عمر ما بدولت بیس سے کچھ اوپر کی لگا لیں ۔

    (اور جتنی چینی ڈالیں گے اتنا میٹھا)

    آمد بر بلاگ ما شکریہ است

    جواب دیںحذف کریں