بدھ، 8 مئی، 2013

یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے !


پچھلے دنوں ایک معتبر ترین عالم دین کا الیکشن کی "قباحتوں " پر بیان پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ جس میں امیدواروں کو خوف خدا کے ساتھ دیانتدارانہ انتخابی مہم، مخالفین پر بے جا الزام تراشی سے گریز ، جھوٹ اور چغلی وغیرہ کے سدباب ، اسراف اور تبذیر سے گریز کرتے ہوئے ایمان دارانہ انداز میں سارے انتخابی عمل کو بحسن و خوبی انجام دینے کی تلقین کی گئی ہے، اور اس کے نتیجے میں ممکنہ رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا مژدا بھی سنایا گیا۔ مثلا ایک اچھی قیادت کا انتخاب اور قوم و وطن کی بھلائی اور خیر خواہی وغیرہ۔

فرزندان مدارس و مساجد پر ہی کیا موقوف، جدید تعلیم یافتہ اور ماڈرن اسلامسٹ کہلانے والے بھی دونوں ہی آج یہ بات باتکرار کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ووٹ ایک امانت ہے اور اس امانت کو ایسے استعمال کریں کہ ایک امانت دار اور "صالح" قیادت سامنے آئے ، وغیرہ وغیرہ۔

ایسے تمام لوگ معاملے کی صرف اس سطح کو دیکھتے ہیں ، یا دیکھنا چاہتے ہیں جو گلیاں سڑکیں بنانے ، ترقیاتی اور مفاد عامہ کے کاموں سے متعلق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس سطح کو یا تو سمجھتے ہی نہیں ہیں ، یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے پس پشت ڈال دیتے ہیں جس کا تعلق ان "عوامی نمائندوں" کے اللہ کے مقابلے میں ایک الگ ہی دین و شریعت گھڑنے اور خدا کی مخلوق پر نافذ کرنے سے ہے۔

پھر یہ شریعت سازی ہوتی کیوں ہے، اس پر بھی غور نہیں کرتے شاید ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شریعت اس لیے معرض وجود میں نہیں لائی جاتی کہ قرآن کی طرح طاقوں میں سجا اور آنکھوں سے لگا کر اس کا حق ادا کر دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شریعت تو عدالتوں میں فی الفور نافذ ہوتی ہے اور عدالتیں از روئے ایت قرآنی ""واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل"" "دلیل" لیتے ہوئے خدائی انصاف کی بجائے اس انسانی وضع کردہ دین کو انصاف کی صورت میں نافذ کر دیتی ہیں !!!

عوام کالانعام ان عدالتوں میں وہ "حق" لینے جاتے ہیں جو ان کو حق کی پڑیا میں باطل بنا کر دیا جاتا ہے اور انہیں خبر تک نہیں ہوتی (( اگر غلطی سے "حق" مل جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ وہ بھی نہیں!! ))

تب یہ جدید پارلیمانی دین اور اس کے نئے سے نئے ایڈیشن گاہے بگاہے نظر ثانی سے گزرتے ہیں اور "قانون نافذ کرنے والے ادارے" ان کی بنا پر زمین کو "عدل و انصاف" سے بھر دیتے ہیں !!

یوں "امانتوں کے لوٹائے جانے" کا وہ عمل جو مفتیان شرع متین اور زعمائے تحریکات اسلامیہ کے ہاں سے دستار فضیلت پا کر بابرکت انداز میں شروع ہوا تھا، اب عمل کی دنیا میں اگلے پانچ سال تک ایک خاص خطہ زمین پر خدا کی خدائی کو 300 ان پڑھ/ نیم پڑھے لکھوں میں خوشی خوشی بانٹ بھی دیتا ہے اور یہ عین منشائے فطرت اور تقاضائے شریعت بھی قرار پاتا ہے!!

کاش یہ لوگ غور کر لیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 60 سال بعد ہی سوچ لیں کہ عملا تو اس جمہوریت خبیثہ نے ہمیں کیا دینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو نقصان اس قومی سطح کے شرک سے ہم اپنی آخرت کا کر چکے ہیں اور کرتے جا رہے ہیں وہ کتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا ہی بڑا ہے !
کیونکہ دنیا کا رونا کوئی نہین ہے ، اصحاب الاخدود بھی جلا دیے گئے تھے اور پیغمبر تک بے دردی سے شہید کر دیے گئے تھے لیکن ان کی کامیابی و کامرانی کے قصیدے آج بھی قرآں میں موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کتنے ہی دنیا میں عیش کرنے والوں کے عذاب کی دردناکی ہے جس کا تصور ہی رلا دیتا ہے !!کاش ہمارے علماء اس پہلو پر قوم کی موجودہ زندگی سے آگے بڑھ کر اخروی زندگی پر بھی سوچ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دور حاضر کے اس صنم اکبر کا "حق" تو یہ بنتا ہے کہ ہر سطح پر اس کی حقیقت کو ایسے واشگاف الفاظ اور انداز میں کھولا جائے جیسے کسی دور میں قادیانیوں کی حقیقت اور ان کے کفر سے آگاہ کیا گیا تھا ، حتٰی کہ اب مسلمانوں کے کسی دور دراز گاؤں کا بچہ بھی کسی دلائل و براہین قاطعہ کی سمجھ بوجھ سے عاری ہونے کے باوجود قادیانیوں کے کفر اور ان کے گندے موقف کے خلاف ایستادہ چٹان کا کردار ادا کرتا ہے۔

کفر کا اہل ایمان پر یہی "حق" ہوتا ہے کہ وہ اس سے انکار کریں! اور جتنا جس کسی کا حلقہ اثر ہے وہ اس انکار کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع کر دے۔ غلبہ کفر کا مطلب بھی یہ نہیں ہوتا کہ اب کفر سے سمجھوتوں کی سوچنی شروع کر دی جائے کہ یہ تو جانے والانہیں ہے ہمیں ہی کچھ "لچک" لانی چاہیے!!

انبیاء و رسل کے ادوار میں کفر کا غلبہ کتنا واضح نظر آتا ہے ، کچھ کو حکومت نصیب ہوئی تو اکثر کو نہیں ۔ لیکن انہوں نے کفر کو اسی سطح پر دیکھاا ور لوگوں کو دکھایا جو خدا کی خدائی کے متصادم ہونے کا درجہ ہے ۔
کفر کے کسی بھی "اچھے " یا "نرم خو" میٹھے میٹھے پہلو کو سامنے کر کے لوگوں کو اسی نظام میں ساجھے داری کا درس نہیں دیا ۔ یہ توحید ہے اور یہی توحید کا تقاضا ہے کہ جب تک اصل الاصول پر لڑائی ہے تب تک بھلے 1001 "مشترکات نما" چیزیں ہی کیوں نہ پائی جائیں وہ ہمارا سبجیکٹ ہی نہیں ہیں !! ہاں خدا کی خدائی کو مانو تو دیکھیں گے!

الیکشن کے تازہ فسانے میں ہمیں ہر رنگ نظر آتا ہے، سیکولرز اور لبرلز کتنے ہی فلیورز اور لیولز میں ہوں وہ اس بات پر متفق و متحد ہیں کہ حاکمیت کو خدا کے لیے خاص نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہیں۔

اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ آئین میں "یہ" لکھ دیا گیا ہے اور قانون "وہ" بن گیا ہے اس لیے اب کچھ نہیں ہو سکتا !، اس کی صرف اور صرف وجہ یہ ہے کہ خود اہل اسلام کے علماء اور "فقہاء" اس بارے میں درجہ اول سے نیچے آ چکے ہیں۔ وہ اس بنیادی فرق کو نظر انداز کرنے پر تیار ہی نہیں عملا قائل وفاعل ہو چکے ہیں جس بنیادی فرق کی خاطر بلال اور خباب نے مکہ کی گلیوں کو خوں رنگ کیا تو حنین اور خیبر کے معرکے لڑے گئے۔

اسلامی حلقے اس کرنے کے کام پر کمربستہ تو ہو کردیکھیں، پھر دیکھتے ہیں کہ انسانوں پر انسانوں کی خدائی کو کس طرح مزید چلایا جا سکتا ہے!!، اور جب آگہی ہی نہیں دی جائیگی تو کیسے شعور آئے گا اور کیسے اس نظام کو بدلنے کی سوچ اور کہاں جا کر نظام کا تلپٹ ہونا اور پھر خلافت کا قیام !!! خیال است ومحال است و جنوں، کم از کم یہ تھوڑا تھوڑا کر کے "کفر کی قبولیت" والا طرز عمل تو یہی ہی ثابت کر رہا ہے۔


فرق کچھ نہیں ، صرف لات و منات کے چولے بدلنے کا عمل وقوع پذیر ہو اہے اور ہم حق سے کچھ کم پر نہیں بہت کچھ کم پر راضی ہو چکے ہیں!!
اسی لیے ہماری حالت نہیں بدلتی اور اسی لیے ہم پر آسمان سے برکتوں کے در وا نہیں ہوتے ۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ اس سارے منظر نامے میں ہمیں اگر کوئی رنگ نظر نہیں آتا، کوئی صدا سنائی نہیں دیتی تو وہ حاکمیت جمہور کا یہ بڑا اکھاڑہ سجنے وقت انہیں احکم الحاکمین کی خالص حاکمیت کی طرف بلایا جائے، پکارا جائے، یا قومنا اجیبوا داعی اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے قوم اللہ کے منادی کی پکار سن لو! کسی لگی لپٹی کے بغیر یہ بتائیں کہ جمہوریت شرک ہے تو کیسے؟ حاکمیت الٰہی کیا ہوتی ہے؟؟ اور نظام باطل اللہ کا حق بندوں کو کیسے تفویض کرنے کی کوشش کرتا ہے ؟؟ اور اب تک اس سب کچھ کے اجتماعی ثمرات کیا ہیں؟؟ اگردنیاوی ثمرات ایک لاکھ ہوں تو بھی کس قیمت پر ہیں !!

یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

ہفتہ، 13 اپریل، 2013

آئین کی تشریح اور نفاذ اسلام



     کسی بھی مسودہ میں الفاظ کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی اہمیت بھی مسلمہ ہوتی ہے جو ان عبارات کی تشریح کا حق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ریاستوں میں دستور کی تدوین کرتے ہوئے ایک ایک لفظ پر بار بار نظر ثانی کی جاتی ہے تاکہ آئین کی روح سے بات کسی بھی طرح باہر نہ جانے پائے۔


    آج کل باسٹھ تریسٹھ پر گرما گرم بحث کے بعدالیکشن ہونے جا رہے ہیں، چنانچہ جمہوریت اور اسلام  کی بحث ایک بار پھر سے تازہ ہو گئی ہے۔ آئین پاکستان ایک ایسی دستاویز ہے جس میں سیکولرز اور اسلام پسند دونوں اپنا اپنا حصہ رکھتے ہیں۔ ان ہی دونوں طبقوں کے اتفاق سے یہ آئین وجود میں‌آیا اور دونوں ہی مختلف تعبیرات اور تشریحات کی صورت میں پاکستان کی صورت گری کے  یکسر مختلف وژن رکھتے ہیں۔ اسلام پسند حاکمیت اعلیٰ اور خلاف قرآن و سنت کوئی قانون نہ بنائے جانے کی بات آئین سے نکالتے ہیں بلکہ تو اسے ماتھے کا جھومر بتاتے ہیں تو سیکولر حضرات عدل اجتماعی اور جمہوری ریاست اور ایسی ہی شقوں کے ساتھ مغربی تشریح کو لف کر کے قیام پاکستان کا اصل مدعا ایک ایسی ریاست کو قرار دیتے ہیں جس میں مذہب کا ریاستی سطح پر کوئی عمل دخل نہ ہو گا۔


    عملا کیا صورتحال ہے ؟ِ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام اگر تھوڑا بہت آئین میں ہے بھی تو حکومتی سطح پرعمل میں بالکل نہیں۔ وجہ کیا ہے؟؟ عام طور پر حکمرانوں کی "عملی کوتاہیوں" اور بد نیتی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور بات ختم۔ 

     آئیے اس تلخ حقیقت کے اسباب کو ایک اور پہلو سے دیکھتے ہیں۔


    یہ کافی معرکۃ الآراء بحث ہے کہ آئین کی تشریح کا حق کسے حاصل ہے؟ عدلیہ اور پارلیمنٹ  دونوں ہی اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہم فی الوقت دونوں ہی کو اس بارے میں مجاز مانتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں ادارے کس طریقہ کار سے ائین کی ممکنہ تشریح کا حق رکھنے والے اپنے ارکان کو اوپر لاتے ہیں۔


    عدلیہ کے جج صاحبان درحقیقت وکلاء ہوتے ہیں جو لاء کالجوں میں انگریزی قانون کی دفعات پڑھتے پڑھاتے ہیں اور ایک دن ججی کا امتحان پاس کر کے تقدس کی کرسی پر متمکن ہو کر "فاضل جج" ہونے کی سند پاتے ہیں۔ اب ایل ایل بی کا کورس ہو یا مزید ایل ایل ایم وغیرہ کی ڈگریاں ہوں، ان میں اسلام کا عنصر آٹے میں نمک برابر بھی شاید نہیں ہوتا۔اسی امتحانی طریق کار سے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز اوپر آتے ہیں اور آئین کی تشریح و تعبیر کے مجاز ٹھہرتے ہیں۔ 


    رہے پارلیمنٹ کے ارکان جن ان کا طریق انتخاب سب کے علم میں ہے،ان کے لیے اگر ہم آئیڈیل صوررت بھی تصور فرما لیں تب بھی ایک اچھا انسان، مسلمان، صادق و امین اور اسلام کے نظریے کے خلاف نہ چلنے والے اشخاص پارلیمنٹ میں آئیں گے، اسلام اور آئین کی اس کے مطابق تشریح کی اہلیت پھر بھی بہت دور کی بات ہے۔


    اب دونوں اداروں کے طریقہ کار اور ارکان کی اہلیت کے معیار کا خوردبینی مطالعہ کرنے سے بھی وہ وہ "چیزیں" برآمد نہیں ہو سکتیں جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ یہ لوگ "اسلامی تشریح" کے اہل قرار پاتے ہیں۔


    لے دے کے ایک فیڈرل شریعت کورٹ نامی تنکے کا سہارا بچتا ہے جس کے ججز نے گورا اور  سلامی قانون دونوں پڑھے ہوتے ہیں لیکن اس کی اتھارٹی بھی "ناقابل یقین" ہے! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود کو قانونا ناجائز قرار دینے میں اس کی بے بسی سب کے سامنے رہی ہے۔ سپریم کورٹ از آل ویز سپریم!۔

     چنانچہ آئین کی پیشانی پر موٹے مارکر سے چسپاں ایک جملہ، ابتدائیے میں ایک یادداشت نما  قراردار اور پارلیمنٹ کی پر جلی حروف میں لاالٰہ الا اللہ لکھ کر دوسری طرف مقتدر اداروں تک رسائی اور اہلیت کا طریقہ کار ہی ایسا ڈیزائن فرما دیا گیا کہ اسلامی تشریح تو درکنار "مسلمانی تشریح" بھی نہ ہو سکے !! مکرر یاد رہے کہ یہ تشریح وہ گیدڑ سنگھی ہے جس نے نافذ ہونا ہے ، بلکہ جس کے مطابق آئین نافذ  ہے، اور سب کے سامنے ہے کہ کیسا نافذ ہے!۔!


     کراس چیک کے لیے پارلیمنٹ کو رہنے دیں کہ اس پر کافی بات ہوتی رہتی ہے، صرف اس امر پر نظر ڈالنا کافی ہو گا کہ اسلامی معاشرے کے وہ راہنما اصول جو آئین میں لکھے گئے ہیں یا تشریح طلب ہیں، ان کے کما حقہ نفاذ کے لیے آج تک عدلیہ نے کیا سرگرمی دکھائی ہے؟؟ وہ عدلیہ جو ہر ایرے غیرے کلازز اور شقوں میں جا گھستی ہے اور وہاں سے نادر روزگار تشریحات برامد کرتی نظر آتی ہے۔۔۔ یہاں اس کے کان اور آنکھیں کلر بلائنڈ کیوں ہیں؟ بھئی جب بنیاد ہی غلط ڈالی جائے گی تو دیوار کیسے سیدھی ہو گی!!18 ، 20 سال گورا قانون پڑھنے پڑھانے اور اسی کی گتھیاں سلجھانے والی قانونی تشریحی نظر آخر کیسے خدا رسول کی منشا کے مطابق آئین کی تشریح کر سکتی ہے؟؟

      سو میرے عزیز ہم وطنو ! اسلامی پاکستان کی داغ بیل عملا تب تک نہیں ڈل سکتی جب تک کہ وہ طریقہ کار نہ ہو جس کے تحت عملاً اسلامی ہونے کی طرف سفر کیا جا سکے۔ ورنہ لاہور کے رستے پر بگٹٹ بھاگنا مخلص اور نیک نیت ہونے کے باوجود آپ کو پشاور نہیں پہنچا سکتا۔  
    پہلی مرتبہ ہم 5 سال پورے کر کے جمہوریت کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ "اسلامی" ہونے کی بیل کب منڈھے چڑھے گی ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

     الغرض مجالس عوام ہوں یا عدلیہ کے مقتدر طبقے، ہر دونوں کی تشکیل اس نہج پر متعین کر   رکھی گئی ہے کہ  صدائے لا الٰہ الا اللہ کا گلا گھونٹنے کا پورا پورا اہتمام ہے!!۔ اس ساری صورتحال میں اب جبکہ الیکشن سر پر ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا عملا اسلام کے نفاذ کی اس نظام کے ذریعے کوئی گنجائش کوئی معمولی سا رخنہ بھی چھوڑا گیا ہے؟؟ جہاں سے اسلامی نظام کا "مبینہ" جن نقب لگا کر اس نظام کی بوتل سے باہر آ اجائے؟؟ یا نو من کا تیل اکٹھے کرتے کرتے ہی قومی زندگی اور اسلامی جماعتوں کے مزید پچاس ساٹھ برس گزر جائیں گے؟؟؟

       سبھی جانتے ہیں کہ فقہی اختلافات کو چھوڑ کر 90 فیصد چیزیں اتفاقی ہیں, ان کو تو اختلاف چھو کر بھی نہیں گذرا، پھر ان کا نفاذ نہ کرنا چہ معنے دارد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ "یہ معنے دارد" کہ ملا صاحبان کو ویٹی کن سٹی میں خلعت فاخرہ بخش کر عیسائیت کو اس کی روح کے ساتھ پیش کرنے کی توقع رکھنا جتنا مضحکہ خیز ہے اس سے کہیں زیادہ "بی اے" پاس یا "گورا قانون" میں زندگی کی صبح شام کرنے والے ارکان پارلیمان و عدلیہ سے آئین کو اسلامی تقاضوں کے مطابق نافذ کرنے کی توقع ہے!۔
    

بدھ، 27 مارچ، 2013

ڈیڈی! دہشت گرد کسے کہتے ہیں؟


))ڈیوڈ کیمبل کا یہ مکالمہ کچھ دیرینہ دوہرے معیاروں کو بڑی بے ساختگی کے ساتھ بے نقاب کرتا ہے ،
 اردو ترجمہ از قلم محترم صلاح الدین اولکھ ((

بیٹا: ڈیڈی دہشت گرد کسے کہتے ہیں؟

باپ: بیٹا آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق دہشت گرد ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو سیاسی عزائم کے حصول کے لیے تشدد اور دھونس کا استعمال کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ دہشت گرد بہت برے مرد اور خواتین ہوتے ہیں جو ہم جیسے عام لوگوں کو نہ صرف خوفزدہ کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھار قتل بھی کر دیتے ہیں۔

بیٹا: دہشت گرد عام لوگوں کو قتل کیوں کرتے ہیں؟

باپ: کیونکہ دہشت گرد عام لوگوں یا ان کے ملک سے نفرت کرتے ہیں، اس کی وضاحت کچھ مشکل ہے،بس کچھ چیزیں ایسی ہی ہیں، ہماری دنیا میں بہت سے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر نفرت سے بھرے پڑے ہیں۔ بالکل عراقیوں کی طرح جو ہمارے لوگوں کو اغوا کر کے قید کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ اگر تمام اتحادی فوجیں عراق سے نہ نکلیں تو مغویوں کو قتل کر دیا جائے گا.

یہ ایک برا حربہ ہے جسے بلیک میلنگ کہتے ہیں، معصوم لوگوں کو اغوا کر کے دہشت گرد مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر مغربی حکومتوں نے ان کی بات نہ مانی تو وہ مغویوں کو قتل کر دیں گے.

بیٹا: جب ہم نے عراق پر حملہ کر کے معصوم لوگوں کو قتل کیا جو کہ بتا نہیں رہے تھے کہ ان کے تباہی پھیلانے والے ہتھیار کہاں ہیں تو یہ بھی بلیک میلنگ ہی تھی نا!

باپ: نہیں .... اچھا، ہاں ایک طرح سے کہہ سکتے ہو لیکن وہ الٹی میٹم تھا، تم اسے مثبت بلیک میلنگ کہہ سکتے ہو.

بیٹا: مثبت بلیک میلنگ؟ وہ کیا ہوتی ہے؟

باپ: مثبت بلیک میلنگ وہ ہوتی ہے جب کسی کو اچھے مقصد کے لیے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے. عراقی ہتھیار بہت خطرناک تھے اور ان سے پوری دنیا میں بہت سے لوگوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا. اس لیے ان کو تلاش کرنا اور تباہ کرنا بہت ضروری تھا.

بیٹا: لیکن دیڈی وہاں تو ہتھیار سرے سے تھے ہی نہیں !

باپ: ہاں یہ سچ ہے لیکن یہ ہمیں اب پتہ چلا ہے حملے کے وقت پتہ نہیں تھا. ہمارا خیال تھا کہ عراق میں ہتھیار موجود تھے.

بیٹا: تو کیا عراق میں اتنے سارے معصوم لوگوں کا قتل عام ایک غلطی ہے؟

باپ: نہیں یہ غلطی نہیں ، بس وہ ایک سانحہ تھا لیکن ہم نے بہت سی زندگیاں بچائی ہیں، تم دیکھو ہم نے بہت سے عراقیوں کو ایک ظالم شخص صدام حسین کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا لیا. صدام حسین اگر برسر اقتدار رہتا تو بہت سے عراقی شہریوں کے قتل کا حکم دے دیتا اور یقینا بہت سے لوگ قتل یا زخمی ہو جاتے. ان میں ماں باپ بھی شامل ہوتے اور بچے بھی.

بیٹا: بالکل اسی عراقی بچے کی طرح جو میں نے ٹی وی پر دیکھا تھا جس کے بازو بم دھماکے میں اڑ گئے تھے؟

باپ: ہاں بالکل اسی بچے کی طرح.

بیٹا:لیکن وہ بم تو ہم نے پھینکا تھا، اس کا مطلب ہے ہمارے رہنما دہشت گرد ہیں؟

باپ: اوہ میرے خدایا! تمہیں یہ خیال بھی کیسے آگیا؟وہ صرف ایک حادثہ تھا،بدقسمتی سے جنگ میں عام لوگ زخمی ہو ہی جاتے ہیں،اگر تم شہر پر بم گراؤ گے تو لوگوں کے زخمی ہونے کے علاوہ کیا توقع رکھ سکتے ہو.کوئی بھی نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن یوں ہو ہی جاتا ہے.

بیٹا: تو کیا جنگ میں صرف فوجیوں اور سپاہیوں کو قتل کیا جاتاہے؟

باپ: ہاں سپاہیوں کو اپنے ملک کے لیے لڑنا سکھایا جاتا ہے،یہ ان کی ذمہ داری ہے ، وہ بہادر ہوتے ہیں،وہ جانتے ہیں کہ جنگ خطرناک ہوتی ہے اور وہ مارے بھی جا سکتے ہیں کیونکہ جونہی وہ وردی پہنتے ہیں وہ دشمنوں کا ہدف بن جاتے ہیں۔

بیٹا: دہشت گرد کون سی وردی پہنتے ہیں؟دیڈی کیا جنگ کے بھی قوانین ہوتے ہیں؟

باپ: ہاں کیوں نہیں، سپاہیوں کو وردی لازمی پہننی چاہیے اور آپ اچانک ہی کسی پر حملہ نہیں کر سکتے جب تک کوئی پہلے آپ پر حملہ نہ کرے،پھر آپ اپنا دفاع کر سکتےہیں۔

بیٹا: تو کیا اسی لیے ہم نے عراق پر حملہ کیا تھا، کیونکہ عراق نے پہلے ہم پر حملہ کیاتھا اور کیا ہم اپنا دفاع کر رہے تھے؟

باپ: بالکل نہیں، عراق نے ہم پر حملہ نہیں کیا تھا، لیکن وہ ایسا کر سکتے تھےاس لیے ہم نے حملے میں پہل کی، کیونکہ عراق بڑے پیمانے پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار چلا سکتا تھا۔

بیٹا: وہ ہتھیار جو ان کے پاس تھے ہی نہیں! تو کیا ہم نے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی؟

باپ: اصولی طور پر تو یہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی لیکن۔ ۔ ۔ 

بیٹا: اگر ہم نے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی تو پھر عراقی لوگ جنہوں نے وردی نہیں پہنی ان کو قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت کیوں نہیں ؟

باپ: یہ بالکل الگ معاملہ ہے ، ہم نے قوانین کی خلاف ورزی کر کے بالکل صحیح کیا۔

بیٹا: لیکن ڈیڈی ہمیں یہ کس طرح پتہ چلا کہ ہم قوانین کی خلاف ورزی کر کے بھی درست تھے؟

باپ: ہمارے رہنماوں جارج بش، ٹونی بلیئر اور ہاورڈ نے ہمیں بتایا کہ پہلے حملہ کرنا درست فیصلہ تھا۔ اگر وہ نہیں جانتے کہ صحیح کیا ہے تو پھر کسے پتہ ہو گا؟ انہوں نے کہا تھا کہ عراق کو ایک بہتر ملک بنانے کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔

بیٹا: تو کیا اب عراق پہلے سے بہتر ملک ہے؟

باپ: میرا خیال ہے بہترہے لیکن یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا،معصوم مغربی لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور اغوا کی وارداتیں تو خوفناک ہیں۔ مجھے ان معصوم مغویوں کے خاندانوں سے بہت ہمدردی ہے۔ لیکن ہم دہشت گردوں کے آگے ہتھیار تو نہیں ڈال سکتے۔ ہمیں ان کو مضبوطی سے کچلنا ہو گا۔

بیٹا: اگر مجھے دہشت گرد قید کر لیں تو آپ کیا کہیں گے؟

باپ: اوہ۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ میرا مطلب ہے کہ یہ بہت خوفناک اور مشکل بات ہے۔

بیٹا: تو کیا آپ مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیں گے؟ آپ مجھے سے پیار نہیں کرتے؟

باپ: کیوں نہیں مجھے تم سے شدید محبت ہے ، یہ بہت مشکل سوال ہے اور میں نہیں جانتا کہ اگر ایسا ہوا تو میں کیا کروں گا۔

بیٹا: اچھا اگر کوئی ہم پر حملہ کرے ہمارے گھر کو بم سے اڑا دےا ور آپ کو ممی اور جینی کو مار دے تو میں جانتا ہوں کہ میں کیا کروں گا۔

باپ: بیٹا کیا کرو گے تم؟

بیٹا: میں یہ پتہ کروں گا کہ ایسا کس نے کیا ہے اور ان کو قتل کر دوں گا، ان سے ساری زندگی نفرت کروں گا، جہاز اڑاؤں گا اور ان کے شہروں پر بمباری کر کے تباہ کر دوں گا۔

باپ: لیکن اس طرح تو بہت سے معصوم لوگ مارے جائیں گے؟

بیٹا: میں جانتا ہوں لیکن یہ جنگ ہے ڈیڈی! اور یاد رکھیے جنگ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ 

اتوار، 3 مارچ، 2013

کچن میں پڑنا


تو صاحبان عدل و انصاف، یہ ان دنوں کی بات ہے جب "انقلاب پاکستان " متعدد کوسٹروں اور ایک لش پش لینڈ کروزر کی قیادت میں لاہور سے روانہ ہو چکا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ اسی دن مام ڈیڈ ایک وفات کی وجہ سے سرگودھے جانے پر مجبور ہو گئے اور ہمیں اس شہر بے اماں میں اکیلا چھوڑ گئے، اب ہم تھے اور ہماری تنہائی۔  ان تین دنوں میں یا تو چوکوری ابلاغی ڈبہ تھا یا پھر کچن! کچن اس لیے کہ حلق کو سیراب اور پیٹ کو شاداب کیے بغیرکچھ بھی ہرا ہرا نہیں لگتا ، پاک نیٹ بھی نہیں۔فیس بک تو ویسے ہی نیلی ہے۔


          یاد نہیں کبھی کچنی مصنوعات بارے سوچا بھی ہو، بس چائے بنانا اپنی دانست میں آتی تھی (ہے!) اور توس سینکائی سے جیم لگائی تک اپنے کچنی تصرفات ختم ہو جاتے ہیں ، جیسا کہ اکثر مرد حضرات اپنی سرشت میں بقول خواتین کے "نان کوا آپریٹو" واقع ہوتے ہیں اور ہم نے تووہ کیا کہتے ہیں  ابھی شادی وادی بھی نہیں بنائی ۔  خیر ان تین دنوں میں یہ عجیب سا رجحان جسے ضرورت ایجاد کی ماں کا نام بھی دیا جا سکت ہے اور ہڈ حرامی کے اعلیٰ درجات پر فائز ہونے کی "پاداش" بھی جہا جا سکتا ہے(( اب کوئی سگھڑ پن نہ کہہ دے:ڈڈ)) ۔۔۔۔۔ کہ ہم جیسے خانہ خراب کی توجہ کچن کا خانہ خراب کرنے کی طرف ہو گئی۔ ہاں تو اور کیا!اب کون روز بریڈ اور انڈے یا نان چنے یا حلوہ پوری یا فلاں فلاں لے کر آئے اور اگلی بھوک پر فیر ایہی کشٹ! کیوں نا کچن میں طبع آزمائی کی جائے ((اگرچہ بعد میں یہ زورآزمائی ثابت ہوئی))۔


          صبح صبح ( میر امطلب کم از  11 بجے کے بعد )اٹھ کر اور کچھ نہ سوجھا تو دو عدد نان بلےکے تندور سے لانے کے بعد چائے بنانے کی سوجھی۔ شاید اس جذبہ عمل کا محرک یہ تھا کہ چائے برائے فروخت تو ہوتی ہے برائے پارسل نہیں دیکھی گئی۔ایک حل یہ بھی ہو سکتا تھا کہ نان لے کر کسی ہوٹل کی راہ لی جاتی ، اللہ اللہ خیر سلا۔ لیکن اب تو گھر تشریف آور ہو چکے تھے اور ایک دفعہ گھرآنے کے بعد دوبارہ صرف "اتی" سی بات کے لیے ہوٹل ایک دشوار گزار سا کام لگتا ہے۔ چائےازمنہ وسطی میں  پہلی دفعہ نانا جی کی فرمائش پہ رات کے کسی ایسے ہی پہر بنائی تھی جب وہ سو کر اٹھ گئے تھے اور ہم کسی نسیم حجازی ناول کا اخیر کرنے کو تھے، باقی سب تو ٹھیک رہا تھا لیکن پتی "قدرے" زیادہ ہو گئی اور پھر جب نانا جی کے ساتھ خود بھی اسے نوش جان فرمایا تو ۔۔۔۔ خیر جناب صبح کا مینیو یہی طے کیا کہ آسان کام ہےاور کافی عرصے بعد ٹرائی کی لیکن چائے گزارے لائق بن گئی اور پسند کی گئی اسی نےآگے چل کر  مطبخانہ عزائم کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔


دوپہرکو فریج سے ایک آدھ چیز برآمد ہو گئی اوررات آئی تو  موت کا پیغام آ گیا۔ میرا مطلب رات تنی دیر کر دی حسب معمول کہ جب آنتیں ایسے ایک دوسرے کو کاٹنے لگیں جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے تواب اماں تو ہیں  نہیں جو کہیں "پتر کی کھانا اے" .۔۔۔ ہائے ! مائے نی میں کنوں آکھاں ۔ خیر رات کو فریج سے کچھ چاول برآمد ہو گئے اور اوون کام آگیا۔ 


صبح آملیٹ بنانے کی کوشش کی گئی ، انڈہ پھینٹ کر مرچیں دھونکیں اور نمک ڈال کر سارا ملیدہ اوپر چولہے کے ۔۔۔۔یہی ترکیب اگلی صبح جب میٹھا انڈہ بنانے کے لیے آزمائی تو منہ کی کھائی ۔ توے پر میٹھا انڈہ بنانے کے چکر میں اور پھر مزید "لذیذ" بنانے کے لیے اس میں ملائی بھی ڈال دی اور اسے "پکنے دیا" کہ کچا نہ رہ جائے اور بدمزہ معلوام نہ ہو۔وہ تو جب انڈے بیچارے نے "سی سی" شروع کی تو دیکھا کہ "برننگ انجری" واقع ہو رہی تھی!  اتارتے اتارتے کوئی 40 فیصد انڈا ، انڈا کم اور کباب کا منظر زیادہ پیش کر رہا تھا۔ بہرحال بندے نے کھایااور اس معرکے پر پھولا نہ سمایا۔


دوپہرکو اس طرح ناغہ ہوا کہ صبح دوپہر کا اکٹھا "ناشتہ کم لنچ" کیا تھا اور شام کو نظر تھی شامی کباب پر! جی آمیزہ تیار تھااور ہمیں بزعم خود اس کے بنانے کی ترکیب بھی  آتی تھی  ۔یہ ترکیب جب لڑا کر "لذیذاور خستہ"  شامی کھا کر خوش بھی ہو لیے تو اماں کا فون آیا، بڑے فخر سے کارگزاری بیان کی کہ خو پکاکر کھا رہا ہوں ۔۔۔۔ "ذرا مجھے بھی تو بتا کیا بنایا ہے "۔اب جو ترکیب بیان کی ہے تو "لیکن اماں وہ کچھ کچھ کچے لگ رہے تھے"  ۔ " انہیں آئل میں تلانہیں تھاکیا؟"، "نہیں بس انڈے میں ٹکیاں ڈال کر توے پر تل لی تھیں " :ڈڈ۔۔۔۔"آئل میں تلتے ہیں بےوقوف! توے کا بھی ناس مار دیا ہو گا"،  بس اس کے بعد کئی دفعہ حلیم مصالحہ کی ڈبیا پر لکھی ترکیب دیکھ کر سوچتا رہا ہوں حلیم بنانا سیکھ لوں اماں سے ،اور سیکھ بھی لوں  لیکن موقع بموقع تبصروں کو ہضم کرنا اپنے بس کی بات نہیں ہے بابا!!

جمعرات، 14 فروری، 2013

دو منظر ایک سٹیٹس


بلاگ پوسٹ صادر ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا ( ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے تو بالکل بھی نہیں)، پھر مزید" افاقہ" تب ہوا جب کئی احباب نے ہمیں تاریخ ویلنٹائن ایک بار پھر سے ازسرنو ازبر کروا کےشکریے کا موقع دے دیا۔ مسئلہ لیکن دو عدد مناظر اور ایک عدد فیس بکی سٹیٹس سے ہوا جن کا ذکر آگے آئے گا۔ ابتدا میں البتہ یہ ذکر برمحل ہو گا کہ سارا سوشل میڈیا کل رات سے آج رات تک عید محبت کی حقیقت کھول کھول کر بیان کرنے کی محنت شاقہ میں مصروف ہے، مضامین سے لیکر پوسٹرز اور تصاویر سے لیکر سلوگن اور جانے کیا کیا کچھ۔ سب اس کو برا سمجھتے ہیں ،آزادانہ اختلاط کو جائز کوئی بھی نہیں رکھتا،اگرچہ دروغ برگردن راوی آج ایک محترمہ نےکسی ٹی وی چینل پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت خدیجہ سے شادی کو یوم محبت کی دلیل بنانے کی کوشش فرما بھی دی ہے لیکن بہرحال یہ استثنائی "کیفیات"  ہیں ،عموما ابھی تک  خود اس میں گٹوں گوڈوں تک ڈوبےمنڈے کھنڈے یا  احباب و اصحاب بھی اسلام کو بہرحال اپنے طرز عمل کے لیے زحمت نہیں دیتے۔

         
          میں نے آپ نے  بھی شاید ہی کسی دن خاص اس دن کی نسبت سے کوئی تقریر وعظ وغیرہ سنا ہو کسی ملا ملانے کا،  لیکن بنیادی اقدار اور اخلاقیات ایسی "چیزیں" اور پھر اسلامی اخلاقیات (عرف "خاص" میں غیرت برگیڈ) ،یہ سب ہمیں ایک حد تک رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں ۔ اندر سے  ایک آدھ آواز ضرور آجاتی ہے! ۔ وجہ یہ کہ ہماری نسل نے اپنے بڑوں اور ماحول سے ایک غیر محسوس طور پر یہ چیزیں حاصل کیں اور دلائل اور اپنے طرز عمل سے سے قطع نظر آج ہم جائز ناجائز کی انہیں حدود قیود کو پسند کرتے ہیں۔


          لیکن اب ماحول ویسا نہیں رہا، گلوبل ولیج کی "آنیاں جانیاں" بہت کچھ بدل رہی ہیں۔ اب بچے  بڑوں سے زیادہ ماحول سے سیکھ رہے ہیں ، اور بڑے بھی پہلے کی طرح بچوں کو سکھانے میں مستعد نہیں ہیں ۔ کمانے کھانے کی فکر تک تواولاد کی تربیت اب بھی کی جاتی ہے، اور ایسی کہ باید و شاید۔۔۔۔ لیکن "بندے کا پتر" بننے کے عمل میں اس بے چارے  کو بڑی حد تک آزاد چھوڑدیا جاتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کیریر منتخب کرنے میں بچے آزاد ہیں ، ایسے ہی اپنا صحیح غلط بھی خود یکھ لیں گے! اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ والدین بچوں کو اور ان کے ماحول کو خود اپنے ماحول پر قیاس کرتے ہیں کہ جیسے انہوں نے سیکھا تھا یہ بھی سیکھ جائیں گےاور وہی اقدار و روایات جو ان کی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے!

         
          آج پیدل چلنے کا موڈ بنا تو پیدل ہی صدر کی طرف چل نکلا ، راستے میں تیسری چوتھی کلاس  کے سکول سے واپس   آتے بچوں سے ٹاکرا ہوا جبکہ ان کا ٹاکرا کالج سے گھر جاتی ایک لڑکی سے ہو رہا تھا۔سب نے  ہاتھوں میں موجود پتیاں محترمہ کے اوپر پھینکیں اور باجماعت ہیپی ویلنٹائن ڈے کا نعرہ لگادیا۔ یہ بچے اپنے ارد گرد سے سب ہضم کر رہے ہیں اور کیپیٹل ازم کے کولہو میں بیل کی طرح جتے والدین انہیں وہ کچھ دے نہیں پا رہے ہیں جو آگے چل کر انہیں اپنی بنیادوں سے مربوط رکھ سکےگا۔ اور یہ وہ خلا ہے جو وہی پر کر سکتے ہیں ان کے علاوہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ بچے جو والدین سے ،اور جیسا والدین سے سیکھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر وہ سکھانے والے بنیں تو!


          آج سے 15 20 سال پہلے تک ہم بہت سے ان اوزون لیئرز کے ساتھ زندہ تھے جو مہلک تابکاری اثرات کو ہم سے کافی دور رکھنے پر قادر تھیں ، لیکن اب  میڈیا کی اخلاقی حدود و قیود سے آزادی، موبائل فون جیسی نعمت غیر مترقبہ اور  انٹرنیٹ جیسے "ملٹی پرپز" کلوروفلورو کاربنز (CFC)نے ہمارا "ڈائریکٹ ایکسپوژر" شروع فرمایا ہوا ہے!! ہمارے خاندانی نظام کے تاروپود گزشتہ دس برسوں میں  بکھرتے دیکھے جا سکتے ہیں ، ہاں اتنا ہے کہ یہ سب کچھ یکبارگی نہیں سنار کی ٹھک ٹھک کے حساب وقوع پذیر ہو رہا ہے اس لیے "سنائی" ذرا کم دیتا ہے۔


          ایک سال بعد ہمیں شرم و حیا کا پرچار یاد آتا ہے ، ایسے ہی جیسے میلاد النبی پر دھوم دھڑکا کرکے اگلے ربیع الاول تک عشق رسول "پینڈنگ" لسٹ میں ، پھر راوی اور سکون اور چین! ۔ بچوں کو صرف اسی پہلو سے نہیں ، ان تمام پہلوؤں سے جن پر میڈیا انہیں سکھانے پڑھانے کی پوری کوشش کر رہا ہے ، وعظ و تبلیغ کی بجائے ٹھیک اسی انداز میں گائیڈ کرنے کی شدیدضرورت ہے جن خطوط پر میڈیا غیر محسوس انداز میں زہر انڈیلتا ہے۔کبھی آپ نے ایک موضوع کے طور پرپردے  کو ڈسکس ہوتے دیکھا چینلز پر! بہت ہی کم، لیکن عملا جو دکھایا جاتا ہے وہ خود ہی آمادہ" عمل" کر ڈالتا ہے ، کیا ضرورت ہے دلائل کےجھنجھٹ میں پڑنے کی ، بی پریکٹیکل! سو بچوں کو والدین کی راہنمائی کی  جتنی ضرورت آج اس پہلو سے ہے ،شاید پہلے نہ تھی۔ ویلنٹائن ڈےتو  اصل چیلنج کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے ،ٹپ آف دی آئس برگ کی طرح ۔


          یہ رویہ اب ہم بہت دیکھ لیے کہ"کچھ نہیں ہوتا" اور "خیر ہے اس سے کیا ہوتا ہے؟"۔  کم از کم گزشتہ دس سالوں میں جو تبدیلی ہم نے  دیکھی ہے اور جتنی تیزی سے اس کو مزید آگے جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، اس کے بعد ہمیں یہ "مٹی پاؤ" ڈاکٹرائن ترک کر دینا چاہیے۔ ورنہ اباحیت اور جنسی آوارگی کی کوئی حدود متعین نہیں ہیں ۔ 20 کروڑ کے ملک میں ایک آدھ فیصد کو چھور کر کوئی بھی اس طرف نہیں چاہتا جہاں مغرب کا اخلاقی نظام "پہنچ" چکا ہے، لیکن اس کے لیے شعوری کوشش چاہیےصاحب! گر یہ نہیں ہے بابا تو سب کہانیاں ہیں۔


          فیس بک پر ایک تصویر آج کافی گردش میں ہے جس میں ایک  پارک میں سورہ نور کی آیت کا بورڈ لگا ہے اور اس کے عین نیچے دو نوجوان ایک بینر لیے کھڑے ہیں جس پر دو عدد" مورحضرات "بنے ہیں اورتحریر ہے کہ "قریب آنے دو، پیار ہونے دو"!۔ ان کے نزدیک یہ محض شغل میلا رہاہو گا اور حضرت مفتی صاحب کی طرف سے اس پر فتوی بھی بڑے  آرام سے جاری ہو سکتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں سوچے گا کہ یہ لاعلمی ہے تو کس کا قصور ہے؟ والدین  تو عقیقہ پر بکرا دلوا کر اور ایک ناظرہ قرآن پاک  کے ختم پر قاری صاحب کو سوٹ تحفے میں دے کر مسلمانی کے حق سے سبکدوش ہو گئے، اور مولانا صاحب جمعے میں نور بشر اور رفع الیدین آمین پر خطیب دوراں کا خطاب پا گئے ۔۔۔۔ اور یہ" مسلمان کی اولاد"گواچی گاں کی طرح "جائیں تو کہاں جائیں" کی تصویر!  شاید ہم اس وقت کے انتظار میں ہیں جب مصر کی طرح یہاں بھی یونیورسٹیز میں اسلام کا اتنا کال پڑ جائے گا کہ نماز کے لیے جگہ تک مختص نہیں ہوا کرے گی (جب پڑھے گا کوئی نہیں تو ایسی بےکار جگہوں کا کوئی مفید مصرف تو ڈھونڈ ہی لیا جاتا ہے !) اور جامعہ ازہر کی طرح یہاں تہاں مساجد و منبرپر مسند نشین اسلام کو اس کی کوئی پروا نہ ہوگی، گمراہوں کی پروا ویسے بھی کیا کرنی!


          سونے پر سہاگہ وہ ٹیپ کا مصرعہ ہےجو آج بھی ایک سٹیٹس پر دیکھا کہ " اس یلغار کا مقابلہ مساجد کے منبر و محراب ہی سے کیا جا سکتا ہے!"۔ ماشاء اللہ میڈیا کے 100 سے اوپر چینلز پلس انٹرنیٹ کی حشرسامانیاں  اور منبر و محراب سے مقابلہ! مندرجہ بالا سلوگن کو  ہر طبقے میں بڑا پسند کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے اپنی اپنی وجوہات ہیں ، مذہبی حلقے اس لیے کہ وہ پہلے ہی یہ کام کر رہے ہیں ، مبنر و محراب ہی تو سنبھالے ہوئے ہیں اور کیا کریں ۔۔۔۔ کیا کوئی اور یہ سنبھال سکتا ہے ، بھئی شکریہ ادا کرو ان کا،پنج وقتہ نماز تک رک جائے گی لوگوں کی!! اوردوسری طرف معاشروں کی نبضیں دیکھتے   اور پالیسیوں پر حسب منشا اثر اندز ہوتے گھاگ"دانشور" بھی تو اس عظیم کردار پر مطمئن ہیں۔ وہی  جو یہ چاہتے ہی نہیں برملا اعلان بھی کرتے ہیں کہ :پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے۔۔۔۔۔ انہیں اس سے بہتر اور کیا چاہیے کہ جس اسلام کو بڑی مشکل سے کھینچ کھانچ کر مسجد تک محدود کیا تھا ، خود اسی کے "مستند نمائندے" اپنا دائرہ کار منبر و محراب کو قرار دے رہے ہیں ۔  تو اور کیا! کتنے فیصدی  لوگ  مساجد میں دروس اٹینڈ کرتے ہیں؟؟ اور کتنے فیصد کا اعتبار کسی عالم  اور اس کے علم پر اتنا ہے کہ وہ مسائل زندگی میں ان سے راہنمائی چاہیں؟؟ اور اس پر طرہ تو یہ کہ خود علماء کہلانے والے کتنے ہیں جو راہنمائی کرنے کے قابل بھی ہوں !! جنہیں اپنے مسلکی جھگڑوں سے اوپر بھی کوئی سوچ فکر نصیب ہو اور جو جدید دنیا اور اس کے مسائل بارے جانکاری رکھتے ہوں ! کتنے ہیں ؟؟


          پھر عشروں کے عشرے منبر و محراب سے الحاد و بے دینی اور اباحیت و بے حیائی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کی ناگزیر ضرورت کا درس اور "پانی سر سے گزر چکا" کے الارم۔۔۔ بمقابلہ آزاد میڈیا کے چند سال ! لوگ آپ تک کہاں آئیں گے ، میڈیا ہی کو دیکھ لیں جو گھروں میں گھسا ہے پھر اب جو دکھاتا ہے دیکھتے ہیں! آپ کو لوگوں تک جانا ہے ،ہر ممکن ذریعے سے ۔۔۔  اپنے قدموں پر چل کر جانے سے لیکر  ہوا کی لہروں کے دوش سمع و بصر کے ذریعے، غیر اسلام کے  آنے  کے ہر راستے پر اسلام کو کھڑا تو کریں کریں! پھر دیکھیں لوگوں کی فطرت جاگتی ہے یا نہیں !!۔۔۔۔ لوگوں کو بلانا ہےاور بتانا ہے کہ یہ دین کسی قسم کی پاپائیت کا تصور نہیں رکھتا، جتنا جتنا جس کا علم ہے وہ اس کے لیے ذمہ دار ہے اور اہل علم اس بات کے اضافی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے علم میں اضافہ کریں ، حق کو چھپائیں ناں اور باطل کے لیے مداہنت پر راضی نہ ہوں ۔ ہاں !صاحبان منبر و محراب بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں اگر وہ تھوڑا سا زحمت فرما کرمحض وعظ سنانے کے علاوہ لوگوں کے مسائل میں شریک بھی ہونا شروع کر دیں  اور اس بڑے طبقے  تک خود پہنچیں جو کسی بھی وجہ سے ان تک نہیں پہنچتا۔ عکاظ کے بازار اور طائف کے خون آلود راستےآج بھی یہی دعوت عمل دے رہے ہیں!

پیر، 4 فروری، 2013

کشمیر کی یاد میں !


کل ایک اور کشمیر ڈے ہے.  پرانے بورڈ پھر سے اسلام اباد ہائی وے کے اطرف میں کھڑے کر دیےگئے  ہیں جن پر حق خود ارادیت کی حمایت میں نعرے درج ہیں ۔ ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی اور پریس کلبز تک ریلیاں اور واکس ہوں گی ، حق تو یہ ہے کہ حق ادا ہو گیا!


          تین جنگیں کشمیر کے خواب دیکھ دیکھ لڑنے  اور نتیجتا رن آف کچھ سے لیکر کارگل تک علاقے گنوانے کے بعد  ،90 کا  ایک پورا عشرہ پورے ا سلامی جوش و جذبے سے جہادکشمیر کی آبیاری اور پچھلے عشرے میں اتنی ہی تندہی سے  اس کی بیخ کنی کے بعد، آج ہم اور "ہمارا" کشمیر  تجارتی بس سروس اور خیر سگالی کے بنتے مٹتے نشانات کے درمیان گھرا کھڑا ہے!


          کشمیریوںکی  تین نسلوں کو امید و بیم کے عذاب سے دوچار رکھنے کے بعد آج کشمیر یوں کا پاکستان یا پاکستان کا کشمیر سالانہ بیانات، کشمیر کمیٹی کے اجلاسوں اور کھوکھلی سفارت کاری میں کہیں دور  دفن ہو کر رہ گئے ہیں ۔ 48 میں قبائلی سرینگر کے دروازے پر تھے تو آگے بڑھنے کے احکامات کا گلا دبوچ لیا گیا، 65 میں جبرالٹر تو 99 میں  کارگل نے امید پیدا کی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔


          اور صورتحال یہ ہے کہ لاہور گوجرانوالہ سے لیکر کراچی حیدر اباد تک بلا مبالغہ ہزاروں جوانوںکا لہو کشمیر کو پاکستان بنانے کے لیے ایک ایسی جنگ میں بہہ چکاہےجو  ایک عشرے بعد شایدکسی سرے لگنے کے قریب تھی کہ اسے  سرحد پار دراندازی تسلیم کر کےتقریبا اس کا گلا دبایا ہی جا چکا ہے۔ ریاستی مفادات کے تحت جہاد کا نعرہ اس افسوسناک انجام سے کیوں دوچار ہوا، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن کشمیری ایک بار پھر اپنے مسیحاؤں کا ساتھ دینے پر پہلے سے کہیں زیادہ معتوب اور مظلوم ٹھہر چکے ہیں ، کیا وہ دوبارہ یہ غلطی کرنے کی ہمت کر پائیں گے!


          یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہمارے ازاد کشمیر سے کہیں زیادہ تعمیر و ترقی کروائی ہے ۔ زلزلے سے پہلے بھی یہ حقیقت بالکل واضح تھی اور زلزلے کے بعد تو خیر ہم اب تک صحیح طور سے  تعمیر نو بھی نہیں کر پائے ہیں ۔ لیکن کشمیری پھر بھی کبھی راولپنڈی چلو کا نعرہ لگاتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی کشمیر چھوڑ دو کی بات کرتا ہے ، کہیں شرائن بورڈ کے خلاف سینہ سپر ہوتا ہے تو کہیں ہاتھ میں پتھر اٹھائے کنٹرول لائن کی طرف مارچ کرتا ہے۔اور ہم بس اسی پر خوش کہ ان کے دلوں میں اب بھی پاکستان بستا ہے ، وہ ہمارے ہیں ہم ان کے ہیں ،خلاص!


          ہم نے کشمیریوں کو مایوس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔سفارت کاری یا عسکریت، دونوں میں سے ایک کام بھی تسلسل سے جاری رکھاجائے تو حل ناممکن نہیں ہوتا۔حال ہی میں فلپائن کی مسلم تحریک کے سامنے حکومت نے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ لیکن ہم نے مستقل مزاجی سے دونوں پٹریاں حسب منشائے امریکا بہادر بدلیں تو کبھی  تجارت اور اعتماد کی بحالی کے خوشنما نعروں میں کشمیریوں کو رول کر رکھ  دیا۔  سید علی گیلانی کی آنکھوں میں بے وفائی کا کرب دیکھنے کے لائق ہوتا ہے ، اور اب تو مدت عمر الحاق پاکستان کی مالا جپنے والے اس بزرگ نے گلہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔فوجی دور حکومت میں شاید وہ اسے مجبوری سمجھتے ہوں لیکن اسی پالیسی کا تسلسل "جمہوری انتقامی" حکومت میں بھی اسی شدت کے ساتھ جاری رہا ہے جو سب کے سامنے ہے ۔ توبار بار کے ازمائے کو کیا آزمانا!!  "تاریخی"قومی موقف ایک طرف،  سوال یہ ہے کہ کشمیری ہمارے ساتھ کیوں شامل ہوں؟؟   آزادی کا مطالبہ تو انسان کی فطرت ہے لیکن کیا الحاق پاکستان کے علاوہ آزادی کا کوئی راستہ طریقہ نہیں ہے؟؟


          پاکستان کی پالیسی قلابازیوں کے درمیان، اس وقت کشمیریوں کے پاس شاید سب سے بہترین آپشن یہی بچا ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ خو د مختاری کا مطالبہ بھی کریں ۔ حریت کانفرنس شاید یہ مطالبہ کبھی نہ کر سکے کیونکہ اس سے پاکستان کی نام نہاد رہی سہی سپورٹ بھی ختم ہونے کا خطرہ ہے لیکن موجودہ نسل جب پاکستانی حسن سلوک کا تجزیہ اور موازنہ کرنے بیٹھے گی تو شایدانہیں  اس کے علاوہ اور کوئی چیز بہتر نظر نہ آئے۔
          لیکن حل چاہتا کون ہے؟ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی سے یہ تلخ حقیقت پھر سے نکھر کر سامنے آ گئی ہے کہ دونوں ہی ممالک کی افواج مسئلہ کشمیر کے حل کا رسک نہیں لے سکتیں ۔ مسئلہ کشمیر ہی وہ بنیادی کاروبار ہے جس میں دونوں اطراف کے کروڑر کمانڈر اور جرنیل(سنگھ) حضرات پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں کیے بیٹھے ہیں ۔ وہ اس سونے کی چڑیا کو "حلال" نہیں کریں گے ۔ نہ کرنے دیں گے!!


          آثار نظر ا رہے ہیں کہ شاید کچھ دنوں تک جہاد کشمیر کے قریب المرگ گھوڑے میں پھر سے جان ڈلوائی جائے اورراہنمایان قوم ایک بار پھر سے اعلائے کلمۃ الحق کا وظیفہ کرتے نظر آئیں۔اس لیے اگلی دفعہ بھی شاہراہ اسلام آباد پر خیر سگالی کے یہی بورڈر کام آئیں گے اور ہم بھی انسانی زنجیروں کے کسی  ایسے ہی روح پرور منظر کا حصہ بن کر  کشمیریوں کو پیغام دیں گے کہ ہم تمہارے حق کے لیے ہزار سال تک لڑیں گے !

کشمیر بنے گا پاکستان



اتوار، 27 جنوری، 2013

سلیقہ اظہار غم


اظہار غم بھی عجیب ہی چیز ہے  ، انا پرستوں کی نظر میں انسان کتنا بھی ہلکا کیوں  ہوجائے لیکن  اپنے غم کو اٹھا باہر پٹختا ہے ۔ رونا چیخنا چلانا اور ایسے ہی فوری اظہار کے طریقے وقتی اشتعال کو کم بھی کرتے ہیں اور زہریلے مادوں  کو اندر مزید زہر گھولتے رہنے سے بھی شاید روک دیتے ہیں ۔


دوسری طرف "انا" کا پرچم اٹھانے  والے اپنا شملہ تو اونچا رکھتے ہی ہیں لیکن بہرصورت دو میں سے ایک بات سے نہیں بچ پاتے یا تو جلتے جلتے کندن ہو رہتے ہیں۔ مسلسل ہلکی آنچ پر پکتے رہنا۔۔۔۔۔ پر کندن سے پہلے "ایک آنچ" کی کسر بھی رہ جائے تو کیمیا گر ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔ دوسری صورت میں  پتہ نہیں اب اس لمحے کو آگہی کہیں گے یا ستم ظریفی کہ مدت عمر غموں کو دل کی کشادگی اور دھیمے پن کی چبھن لیے سمونے والا شاید "سیچوریٹ" ہو گیا ہے ؟؟  اندر اور گنجائش نہیں رہی اور سیم تھور کی طرح نمی اور نمکینی واپس سطح پر آنا شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔ ایسا ہوتا ہے لیکن کم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "کندن"  کہانی بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کس کے ساتھ کہاں تک پہنچی ہے ۔  "آخری آنچ "تک کیا کہا جا سکتا ہے!


سلیقہ اظہار غم تب "حسب ذائقہ" اور "حسب بندہ" مختلف صورتوں میں پھوٹتا ہے ۔چپ کی بادشاہی، شاعری کا روگ ، لکھنے کی لت، سوچنے کی بیماری یا خود اپنی ذات سے بے نیازی ۔ ۔ ۔ اور بھی ہزار رنگ ہیں اس ایک "سمسیا" کے!"


لیکن ساتھ ہی ساتھ اندر سے نقب لگ کے ہی رہتی ہے ، شگاف بڑا ہی ہوتاجاتا ۔ ۔ ۔روح کا وہ خلا جس سے بھاگا نہیں جا سکتا ۔ جس کو بھرنے کی ایک ہی صورت ہوتی ہے کہ "سب کہہ دو"!لیکن کیسے ؟  دوا ہی سے تو  پرہیز ہوتا ہے ! روح کی تعمیر میں شاید جسم کی تخریب !! لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تعمیر بھی ہوتی ہے کہ نہیں،کون کہہ سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اس کندن بننے میں خود اندر ون استعمال ہوتا  چلا جا تا ہے ،خود کو خود جلاتا ہے  جلتا ہے ، کٹتا ہے  کاٹتاہے۔


پھر حلم اور بردباری جیسی "آخری آنچ" کے بعد آتی ہے ، بس دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔۔۔۔پر آخری آنچ آتی کب ہے؟؟کاش کوئی بتا دے ! کسی نے
 “wisdom is nothing more than healed pain” کہہ کر بڑی بات کم لفظوں میں تو ٹھونسی ہے لیکن شاید یہ نہیں بتاسکا کہ روح کی بیشتر کھڑکیاں کھلنے کے بعد بھی وہ تشنگی کبھی دور نہیں ہو سکتی جو زاروقطار رونے اور کسی کندھے پر سر ٹکا کر ہر چھوٹی بڑی بات کہہ کرہو جاتی ہے۔ فطرت ہے ۔۔۔۔ کمزور انسان کتنا بھی طاقتور ہو جائے ، کتنا لڑ سکتا ہے !!