اسلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اسلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 8 مئی، 2013

یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے !


پچھلے دنوں ایک معتبر ترین عالم دین کا الیکشن کی "قباحتوں " پر بیان پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ جس میں امیدواروں کو خوف خدا کے ساتھ دیانتدارانہ انتخابی مہم، مخالفین پر بے جا الزام تراشی سے گریز ، جھوٹ اور چغلی وغیرہ کے سدباب ، اسراف اور تبذیر سے گریز کرتے ہوئے ایمان دارانہ انداز میں سارے انتخابی عمل کو بحسن و خوبی انجام دینے کی تلقین کی گئی ہے، اور اس کے نتیجے میں ممکنہ رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا مژدا بھی سنایا گیا۔ مثلا ایک اچھی قیادت کا انتخاب اور قوم و وطن کی بھلائی اور خیر خواہی وغیرہ۔

فرزندان مدارس و مساجد پر ہی کیا موقوف، جدید تعلیم یافتہ اور ماڈرن اسلامسٹ کہلانے والے بھی دونوں ہی آج یہ بات باتکرار کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ووٹ ایک امانت ہے اور اس امانت کو ایسے استعمال کریں کہ ایک امانت دار اور "صالح" قیادت سامنے آئے ، وغیرہ وغیرہ۔

ایسے تمام لوگ معاملے کی صرف اس سطح کو دیکھتے ہیں ، یا دیکھنا چاہتے ہیں جو گلیاں سڑکیں بنانے ، ترقیاتی اور مفاد عامہ کے کاموں سے متعلق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس سطح کو یا تو سمجھتے ہی نہیں ہیں ، یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے پس پشت ڈال دیتے ہیں جس کا تعلق ان "عوامی نمائندوں" کے اللہ کے مقابلے میں ایک الگ ہی دین و شریعت گھڑنے اور خدا کی مخلوق پر نافذ کرنے سے ہے۔

پھر یہ شریعت سازی ہوتی کیوں ہے، اس پر بھی غور نہیں کرتے شاید ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شریعت اس لیے معرض وجود میں نہیں لائی جاتی کہ قرآن کی طرح طاقوں میں سجا اور آنکھوں سے لگا کر اس کا حق ادا کر دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شریعت تو عدالتوں میں فی الفور نافذ ہوتی ہے اور عدالتیں از روئے ایت قرآنی ""واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل"" "دلیل" لیتے ہوئے خدائی انصاف کی بجائے اس انسانی وضع کردہ دین کو انصاف کی صورت میں نافذ کر دیتی ہیں !!!

عوام کالانعام ان عدالتوں میں وہ "حق" لینے جاتے ہیں جو ان کو حق کی پڑیا میں باطل بنا کر دیا جاتا ہے اور انہیں خبر تک نہیں ہوتی (( اگر غلطی سے "حق" مل جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ وہ بھی نہیں!! ))

تب یہ جدید پارلیمانی دین اور اس کے نئے سے نئے ایڈیشن گاہے بگاہے نظر ثانی سے گزرتے ہیں اور "قانون نافذ کرنے والے ادارے" ان کی بنا پر زمین کو "عدل و انصاف" سے بھر دیتے ہیں !!

یوں "امانتوں کے لوٹائے جانے" کا وہ عمل جو مفتیان شرع متین اور زعمائے تحریکات اسلامیہ کے ہاں سے دستار فضیلت پا کر بابرکت انداز میں شروع ہوا تھا، اب عمل کی دنیا میں اگلے پانچ سال تک ایک خاص خطہ زمین پر خدا کی خدائی کو 300 ان پڑھ/ نیم پڑھے لکھوں میں خوشی خوشی بانٹ بھی دیتا ہے اور یہ عین منشائے فطرت اور تقاضائے شریعت بھی قرار پاتا ہے!!

کاش یہ لوگ غور کر لیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 60 سال بعد ہی سوچ لیں کہ عملا تو اس جمہوریت خبیثہ نے ہمیں کیا دینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو نقصان اس قومی سطح کے شرک سے ہم اپنی آخرت کا کر چکے ہیں اور کرتے جا رہے ہیں وہ کتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا ہی بڑا ہے !
کیونکہ دنیا کا رونا کوئی نہین ہے ، اصحاب الاخدود بھی جلا دیے گئے تھے اور پیغمبر تک بے دردی سے شہید کر دیے گئے تھے لیکن ان کی کامیابی و کامرانی کے قصیدے آج بھی قرآں میں موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کتنے ہی دنیا میں عیش کرنے والوں کے عذاب کی دردناکی ہے جس کا تصور ہی رلا دیتا ہے !!کاش ہمارے علماء اس پہلو پر قوم کی موجودہ زندگی سے آگے بڑھ کر اخروی زندگی پر بھی سوچ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دور حاضر کے اس صنم اکبر کا "حق" تو یہ بنتا ہے کہ ہر سطح پر اس کی حقیقت کو ایسے واشگاف الفاظ اور انداز میں کھولا جائے جیسے کسی دور میں قادیانیوں کی حقیقت اور ان کے کفر سے آگاہ کیا گیا تھا ، حتٰی کہ اب مسلمانوں کے کسی دور دراز گاؤں کا بچہ بھی کسی دلائل و براہین قاطعہ کی سمجھ بوجھ سے عاری ہونے کے باوجود قادیانیوں کے کفر اور ان کے گندے موقف کے خلاف ایستادہ چٹان کا کردار ادا کرتا ہے۔

کفر کا اہل ایمان پر یہی "حق" ہوتا ہے کہ وہ اس سے انکار کریں! اور جتنا جس کسی کا حلقہ اثر ہے وہ اس انکار کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع کر دے۔ غلبہ کفر کا مطلب بھی یہ نہیں ہوتا کہ اب کفر سے سمجھوتوں کی سوچنی شروع کر دی جائے کہ یہ تو جانے والانہیں ہے ہمیں ہی کچھ "لچک" لانی چاہیے!!

انبیاء و رسل کے ادوار میں کفر کا غلبہ کتنا واضح نظر آتا ہے ، کچھ کو حکومت نصیب ہوئی تو اکثر کو نہیں ۔ لیکن انہوں نے کفر کو اسی سطح پر دیکھاا ور لوگوں کو دکھایا جو خدا کی خدائی کے متصادم ہونے کا درجہ ہے ۔
کفر کے کسی بھی "اچھے " یا "نرم خو" میٹھے میٹھے پہلو کو سامنے کر کے لوگوں کو اسی نظام میں ساجھے داری کا درس نہیں دیا ۔ یہ توحید ہے اور یہی توحید کا تقاضا ہے کہ جب تک اصل الاصول پر لڑائی ہے تب تک بھلے 1001 "مشترکات نما" چیزیں ہی کیوں نہ پائی جائیں وہ ہمارا سبجیکٹ ہی نہیں ہیں !! ہاں خدا کی خدائی کو مانو تو دیکھیں گے!

الیکشن کے تازہ فسانے میں ہمیں ہر رنگ نظر آتا ہے، سیکولرز اور لبرلز کتنے ہی فلیورز اور لیولز میں ہوں وہ اس بات پر متفق و متحد ہیں کہ حاکمیت کو خدا کے لیے خاص نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہیں۔

اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ آئین میں "یہ" لکھ دیا گیا ہے اور قانون "وہ" بن گیا ہے اس لیے اب کچھ نہیں ہو سکتا !، اس کی صرف اور صرف وجہ یہ ہے کہ خود اہل اسلام کے علماء اور "فقہاء" اس بارے میں درجہ اول سے نیچے آ چکے ہیں۔ وہ اس بنیادی فرق کو نظر انداز کرنے پر تیار ہی نہیں عملا قائل وفاعل ہو چکے ہیں جس بنیادی فرق کی خاطر بلال اور خباب نے مکہ کی گلیوں کو خوں رنگ کیا تو حنین اور خیبر کے معرکے لڑے گئے۔

اسلامی حلقے اس کرنے کے کام پر کمربستہ تو ہو کردیکھیں، پھر دیکھتے ہیں کہ انسانوں پر انسانوں کی خدائی کو کس طرح مزید چلایا جا سکتا ہے!!، اور جب آگہی ہی نہیں دی جائیگی تو کیسے شعور آئے گا اور کیسے اس نظام کو بدلنے کی سوچ اور کہاں جا کر نظام کا تلپٹ ہونا اور پھر خلافت کا قیام !!! خیال است ومحال است و جنوں، کم از کم یہ تھوڑا تھوڑا کر کے "کفر کی قبولیت" والا طرز عمل تو یہی ہی ثابت کر رہا ہے۔


فرق کچھ نہیں ، صرف لات و منات کے چولے بدلنے کا عمل وقوع پذیر ہو اہے اور ہم حق سے کچھ کم پر نہیں بہت کچھ کم پر راضی ہو چکے ہیں!!
اسی لیے ہماری حالت نہیں بدلتی اور اسی لیے ہم پر آسمان سے برکتوں کے در وا نہیں ہوتے ۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ اس سارے منظر نامے میں ہمیں اگر کوئی رنگ نظر نہیں آتا، کوئی صدا سنائی نہیں دیتی تو وہ حاکمیت جمہور کا یہ بڑا اکھاڑہ سجنے وقت انہیں احکم الحاکمین کی خالص حاکمیت کی طرف بلایا جائے، پکارا جائے، یا قومنا اجیبوا داعی اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے قوم اللہ کے منادی کی پکار سن لو! کسی لگی لپٹی کے بغیر یہ بتائیں کہ جمہوریت شرک ہے تو کیسے؟ حاکمیت الٰہی کیا ہوتی ہے؟؟ اور نظام باطل اللہ کا حق بندوں کو کیسے تفویض کرنے کی کوشش کرتا ہے ؟؟ اور اب تک اس سب کچھ کے اجتماعی ثمرات کیا ہیں؟؟ اگردنیاوی ثمرات ایک لاکھ ہوں تو بھی کس قیمت پر ہیں !!

یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

ہفتہ، 13 اپریل، 2013

آئین کی تشریح اور نفاذ اسلام



     کسی بھی مسودہ میں الفاظ کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی اہمیت بھی مسلمہ ہوتی ہے جو ان عبارات کی تشریح کا حق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ریاستوں میں دستور کی تدوین کرتے ہوئے ایک ایک لفظ پر بار بار نظر ثانی کی جاتی ہے تاکہ آئین کی روح سے بات کسی بھی طرح باہر نہ جانے پائے۔


    آج کل باسٹھ تریسٹھ پر گرما گرم بحث کے بعدالیکشن ہونے جا رہے ہیں، چنانچہ جمہوریت اور اسلام  کی بحث ایک بار پھر سے تازہ ہو گئی ہے۔ آئین پاکستان ایک ایسی دستاویز ہے جس میں سیکولرز اور اسلام پسند دونوں اپنا اپنا حصہ رکھتے ہیں۔ ان ہی دونوں طبقوں کے اتفاق سے یہ آئین وجود میں‌آیا اور دونوں ہی مختلف تعبیرات اور تشریحات کی صورت میں پاکستان کی صورت گری کے  یکسر مختلف وژن رکھتے ہیں۔ اسلام پسند حاکمیت اعلیٰ اور خلاف قرآن و سنت کوئی قانون نہ بنائے جانے کی بات آئین سے نکالتے ہیں بلکہ تو اسے ماتھے کا جھومر بتاتے ہیں تو سیکولر حضرات عدل اجتماعی اور جمہوری ریاست اور ایسی ہی شقوں کے ساتھ مغربی تشریح کو لف کر کے قیام پاکستان کا اصل مدعا ایک ایسی ریاست کو قرار دیتے ہیں جس میں مذہب کا ریاستی سطح پر کوئی عمل دخل نہ ہو گا۔


    عملا کیا صورتحال ہے ؟ِ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام اگر تھوڑا بہت آئین میں ہے بھی تو حکومتی سطح پرعمل میں بالکل نہیں۔ وجہ کیا ہے؟؟ عام طور پر حکمرانوں کی "عملی کوتاہیوں" اور بد نیتی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور بات ختم۔ 

     آئیے اس تلخ حقیقت کے اسباب کو ایک اور پہلو سے دیکھتے ہیں۔


    یہ کافی معرکۃ الآراء بحث ہے کہ آئین کی تشریح کا حق کسے حاصل ہے؟ عدلیہ اور پارلیمنٹ  دونوں ہی اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہم فی الوقت دونوں ہی کو اس بارے میں مجاز مانتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں ادارے کس طریقہ کار سے ائین کی ممکنہ تشریح کا حق رکھنے والے اپنے ارکان کو اوپر لاتے ہیں۔


    عدلیہ کے جج صاحبان درحقیقت وکلاء ہوتے ہیں جو لاء کالجوں میں انگریزی قانون کی دفعات پڑھتے پڑھاتے ہیں اور ایک دن ججی کا امتحان پاس کر کے تقدس کی کرسی پر متمکن ہو کر "فاضل جج" ہونے کی سند پاتے ہیں۔ اب ایل ایل بی کا کورس ہو یا مزید ایل ایل ایم وغیرہ کی ڈگریاں ہوں، ان میں اسلام کا عنصر آٹے میں نمک برابر بھی شاید نہیں ہوتا۔اسی امتحانی طریق کار سے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز اوپر آتے ہیں اور آئین کی تشریح و تعبیر کے مجاز ٹھہرتے ہیں۔ 


    رہے پارلیمنٹ کے ارکان جن ان کا طریق انتخاب سب کے علم میں ہے،ان کے لیے اگر ہم آئیڈیل صوررت بھی تصور فرما لیں تب بھی ایک اچھا انسان، مسلمان، صادق و امین اور اسلام کے نظریے کے خلاف نہ چلنے والے اشخاص پارلیمنٹ میں آئیں گے، اسلام اور آئین کی اس کے مطابق تشریح کی اہلیت پھر بھی بہت دور کی بات ہے۔


    اب دونوں اداروں کے طریقہ کار اور ارکان کی اہلیت کے معیار کا خوردبینی مطالعہ کرنے سے بھی وہ وہ "چیزیں" برآمد نہیں ہو سکتیں جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ یہ لوگ "اسلامی تشریح" کے اہل قرار پاتے ہیں۔


    لے دے کے ایک فیڈرل شریعت کورٹ نامی تنکے کا سہارا بچتا ہے جس کے ججز نے گورا اور  سلامی قانون دونوں پڑھے ہوتے ہیں لیکن اس کی اتھارٹی بھی "ناقابل یقین" ہے! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود کو قانونا ناجائز قرار دینے میں اس کی بے بسی سب کے سامنے رہی ہے۔ سپریم کورٹ از آل ویز سپریم!۔

     چنانچہ آئین کی پیشانی پر موٹے مارکر سے چسپاں ایک جملہ، ابتدائیے میں ایک یادداشت نما  قراردار اور پارلیمنٹ کی پر جلی حروف میں لاالٰہ الا اللہ لکھ کر دوسری طرف مقتدر اداروں تک رسائی اور اہلیت کا طریقہ کار ہی ایسا ڈیزائن فرما دیا گیا کہ اسلامی تشریح تو درکنار "مسلمانی تشریح" بھی نہ ہو سکے !! مکرر یاد رہے کہ یہ تشریح وہ گیدڑ سنگھی ہے جس نے نافذ ہونا ہے ، بلکہ جس کے مطابق آئین نافذ  ہے، اور سب کے سامنے ہے کہ کیسا نافذ ہے!۔!


     کراس چیک کے لیے پارلیمنٹ کو رہنے دیں کہ اس پر کافی بات ہوتی رہتی ہے، صرف اس امر پر نظر ڈالنا کافی ہو گا کہ اسلامی معاشرے کے وہ راہنما اصول جو آئین میں لکھے گئے ہیں یا تشریح طلب ہیں، ان کے کما حقہ نفاذ کے لیے آج تک عدلیہ نے کیا سرگرمی دکھائی ہے؟؟ وہ عدلیہ جو ہر ایرے غیرے کلازز اور شقوں میں جا گھستی ہے اور وہاں سے نادر روزگار تشریحات برامد کرتی نظر آتی ہے۔۔۔ یہاں اس کے کان اور آنکھیں کلر بلائنڈ کیوں ہیں؟ بھئی جب بنیاد ہی غلط ڈالی جائے گی تو دیوار کیسے سیدھی ہو گی!!18 ، 20 سال گورا قانون پڑھنے پڑھانے اور اسی کی گتھیاں سلجھانے والی قانونی تشریحی نظر آخر کیسے خدا رسول کی منشا کے مطابق آئین کی تشریح کر سکتی ہے؟؟

      سو میرے عزیز ہم وطنو ! اسلامی پاکستان کی داغ بیل عملا تب تک نہیں ڈل سکتی جب تک کہ وہ طریقہ کار نہ ہو جس کے تحت عملاً اسلامی ہونے کی طرف سفر کیا جا سکے۔ ورنہ لاہور کے رستے پر بگٹٹ بھاگنا مخلص اور نیک نیت ہونے کے باوجود آپ کو پشاور نہیں پہنچا سکتا۔  
    پہلی مرتبہ ہم 5 سال پورے کر کے جمہوریت کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ "اسلامی" ہونے کی بیل کب منڈھے چڑھے گی ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

     الغرض مجالس عوام ہوں یا عدلیہ کے مقتدر طبقے، ہر دونوں کی تشکیل اس نہج پر متعین کر   رکھی گئی ہے کہ  صدائے لا الٰہ الا اللہ کا گلا گھونٹنے کا پورا پورا اہتمام ہے!!۔ اس ساری صورتحال میں اب جبکہ الیکشن سر پر ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا عملا اسلام کے نفاذ کی اس نظام کے ذریعے کوئی گنجائش کوئی معمولی سا رخنہ بھی چھوڑا گیا ہے؟؟ جہاں سے اسلامی نظام کا "مبینہ" جن نقب لگا کر اس نظام کی بوتل سے باہر آ اجائے؟؟ یا نو من کا تیل اکٹھے کرتے کرتے ہی قومی زندگی اور اسلامی جماعتوں کے مزید پچاس ساٹھ برس گزر جائیں گے؟؟؟

       سبھی جانتے ہیں کہ فقہی اختلافات کو چھوڑ کر 90 فیصد چیزیں اتفاقی ہیں, ان کو تو اختلاف چھو کر بھی نہیں گذرا، پھر ان کا نفاذ نہ کرنا چہ معنے دارد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ "یہ معنے دارد" کہ ملا صاحبان کو ویٹی کن سٹی میں خلعت فاخرہ بخش کر عیسائیت کو اس کی روح کے ساتھ پیش کرنے کی توقع رکھنا جتنا مضحکہ خیز ہے اس سے کہیں زیادہ "بی اے" پاس یا "گورا قانون" میں زندگی کی صبح شام کرنے والے ارکان پارلیمان و عدلیہ سے آئین کو اسلامی تقاضوں کے مطابق نافذ کرنے کی توقع ہے!۔
    

بدھ، 27 مارچ، 2013

ڈیڈی! دہشت گرد کسے کہتے ہیں؟


))ڈیوڈ کیمبل کا یہ مکالمہ کچھ دیرینہ دوہرے معیاروں کو بڑی بے ساختگی کے ساتھ بے نقاب کرتا ہے ،
 اردو ترجمہ از قلم محترم صلاح الدین اولکھ ((

بیٹا: ڈیڈی دہشت گرد کسے کہتے ہیں؟

باپ: بیٹا آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق دہشت گرد ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو سیاسی عزائم کے حصول کے لیے تشدد اور دھونس کا استعمال کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ دہشت گرد بہت برے مرد اور خواتین ہوتے ہیں جو ہم جیسے عام لوگوں کو نہ صرف خوفزدہ کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھار قتل بھی کر دیتے ہیں۔

بیٹا: دہشت گرد عام لوگوں کو قتل کیوں کرتے ہیں؟

باپ: کیونکہ دہشت گرد عام لوگوں یا ان کے ملک سے نفرت کرتے ہیں، اس کی وضاحت کچھ مشکل ہے،بس کچھ چیزیں ایسی ہی ہیں، ہماری دنیا میں بہت سے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر نفرت سے بھرے پڑے ہیں۔ بالکل عراقیوں کی طرح جو ہمارے لوگوں کو اغوا کر کے قید کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ اگر تمام اتحادی فوجیں عراق سے نہ نکلیں تو مغویوں کو قتل کر دیا جائے گا.

یہ ایک برا حربہ ہے جسے بلیک میلنگ کہتے ہیں، معصوم لوگوں کو اغوا کر کے دہشت گرد مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر مغربی حکومتوں نے ان کی بات نہ مانی تو وہ مغویوں کو قتل کر دیں گے.

بیٹا: جب ہم نے عراق پر حملہ کر کے معصوم لوگوں کو قتل کیا جو کہ بتا نہیں رہے تھے کہ ان کے تباہی پھیلانے والے ہتھیار کہاں ہیں تو یہ بھی بلیک میلنگ ہی تھی نا!

باپ: نہیں .... اچھا، ہاں ایک طرح سے کہہ سکتے ہو لیکن وہ الٹی میٹم تھا، تم اسے مثبت بلیک میلنگ کہہ سکتے ہو.

بیٹا: مثبت بلیک میلنگ؟ وہ کیا ہوتی ہے؟

باپ: مثبت بلیک میلنگ وہ ہوتی ہے جب کسی کو اچھے مقصد کے لیے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے. عراقی ہتھیار بہت خطرناک تھے اور ان سے پوری دنیا میں بہت سے لوگوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا. اس لیے ان کو تلاش کرنا اور تباہ کرنا بہت ضروری تھا.

بیٹا: لیکن دیڈی وہاں تو ہتھیار سرے سے تھے ہی نہیں !

باپ: ہاں یہ سچ ہے لیکن یہ ہمیں اب پتہ چلا ہے حملے کے وقت پتہ نہیں تھا. ہمارا خیال تھا کہ عراق میں ہتھیار موجود تھے.

بیٹا: تو کیا عراق میں اتنے سارے معصوم لوگوں کا قتل عام ایک غلطی ہے؟

باپ: نہیں یہ غلطی نہیں ، بس وہ ایک سانحہ تھا لیکن ہم نے بہت سی زندگیاں بچائی ہیں، تم دیکھو ہم نے بہت سے عراقیوں کو ایک ظالم شخص صدام حسین کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا لیا. صدام حسین اگر برسر اقتدار رہتا تو بہت سے عراقی شہریوں کے قتل کا حکم دے دیتا اور یقینا بہت سے لوگ قتل یا زخمی ہو جاتے. ان میں ماں باپ بھی شامل ہوتے اور بچے بھی.

بیٹا: بالکل اسی عراقی بچے کی طرح جو میں نے ٹی وی پر دیکھا تھا جس کے بازو بم دھماکے میں اڑ گئے تھے؟

باپ: ہاں بالکل اسی بچے کی طرح.

بیٹا:لیکن وہ بم تو ہم نے پھینکا تھا، اس کا مطلب ہے ہمارے رہنما دہشت گرد ہیں؟

باپ: اوہ میرے خدایا! تمہیں یہ خیال بھی کیسے آگیا؟وہ صرف ایک حادثہ تھا،بدقسمتی سے جنگ میں عام لوگ زخمی ہو ہی جاتے ہیں،اگر تم شہر پر بم گراؤ گے تو لوگوں کے زخمی ہونے کے علاوہ کیا توقع رکھ سکتے ہو.کوئی بھی نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن یوں ہو ہی جاتا ہے.

بیٹا: تو کیا جنگ میں صرف فوجیوں اور سپاہیوں کو قتل کیا جاتاہے؟

باپ: ہاں سپاہیوں کو اپنے ملک کے لیے لڑنا سکھایا جاتا ہے،یہ ان کی ذمہ داری ہے ، وہ بہادر ہوتے ہیں،وہ جانتے ہیں کہ جنگ خطرناک ہوتی ہے اور وہ مارے بھی جا سکتے ہیں کیونکہ جونہی وہ وردی پہنتے ہیں وہ دشمنوں کا ہدف بن جاتے ہیں۔

بیٹا: دہشت گرد کون سی وردی پہنتے ہیں؟دیڈی کیا جنگ کے بھی قوانین ہوتے ہیں؟

باپ: ہاں کیوں نہیں، سپاہیوں کو وردی لازمی پہننی چاہیے اور آپ اچانک ہی کسی پر حملہ نہیں کر سکتے جب تک کوئی پہلے آپ پر حملہ نہ کرے،پھر آپ اپنا دفاع کر سکتےہیں۔

بیٹا: تو کیا اسی لیے ہم نے عراق پر حملہ کیا تھا، کیونکہ عراق نے پہلے ہم پر حملہ کیاتھا اور کیا ہم اپنا دفاع کر رہے تھے؟

باپ: بالکل نہیں، عراق نے ہم پر حملہ نہیں کیا تھا، لیکن وہ ایسا کر سکتے تھےاس لیے ہم نے حملے میں پہل کی، کیونکہ عراق بڑے پیمانے پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار چلا سکتا تھا۔

بیٹا: وہ ہتھیار جو ان کے پاس تھے ہی نہیں! تو کیا ہم نے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی؟

باپ: اصولی طور پر تو یہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی لیکن۔ ۔ ۔ 

بیٹا: اگر ہم نے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی تو پھر عراقی لوگ جنہوں نے وردی نہیں پہنی ان کو قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت کیوں نہیں ؟

باپ: یہ بالکل الگ معاملہ ہے ، ہم نے قوانین کی خلاف ورزی کر کے بالکل صحیح کیا۔

بیٹا: لیکن ڈیڈی ہمیں یہ کس طرح پتہ چلا کہ ہم قوانین کی خلاف ورزی کر کے بھی درست تھے؟

باپ: ہمارے رہنماوں جارج بش، ٹونی بلیئر اور ہاورڈ نے ہمیں بتایا کہ پہلے حملہ کرنا درست فیصلہ تھا۔ اگر وہ نہیں جانتے کہ صحیح کیا ہے تو پھر کسے پتہ ہو گا؟ انہوں نے کہا تھا کہ عراق کو ایک بہتر ملک بنانے کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔

بیٹا: تو کیا اب عراق پہلے سے بہتر ملک ہے؟

باپ: میرا خیال ہے بہترہے لیکن یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا،معصوم مغربی لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور اغوا کی وارداتیں تو خوفناک ہیں۔ مجھے ان معصوم مغویوں کے خاندانوں سے بہت ہمدردی ہے۔ لیکن ہم دہشت گردوں کے آگے ہتھیار تو نہیں ڈال سکتے۔ ہمیں ان کو مضبوطی سے کچلنا ہو گا۔

بیٹا: اگر مجھے دہشت گرد قید کر لیں تو آپ کیا کہیں گے؟

باپ: اوہ۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ میرا مطلب ہے کہ یہ بہت خوفناک اور مشکل بات ہے۔

بیٹا: تو کیا آپ مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیں گے؟ آپ مجھے سے پیار نہیں کرتے؟

باپ: کیوں نہیں مجھے تم سے شدید محبت ہے ، یہ بہت مشکل سوال ہے اور میں نہیں جانتا کہ اگر ایسا ہوا تو میں کیا کروں گا۔

بیٹا: اچھا اگر کوئی ہم پر حملہ کرے ہمارے گھر کو بم سے اڑا دےا ور آپ کو ممی اور جینی کو مار دے تو میں جانتا ہوں کہ میں کیا کروں گا۔

باپ: بیٹا کیا کرو گے تم؟

بیٹا: میں یہ پتہ کروں گا کہ ایسا کس نے کیا ہے اور ان کو قتل کر دوں گا، ان سے ساری زندگی نفرت کروں گا، جہاز اڑاؤں گا اور ان کے شہروں پر بمباری کر کے تباہ کر دوں گا۔

باپ: لیکن اس طرح تو بہت سے معصوم لوگ مارے جائیں گے؟

بیٹا: میں جانتا ہوں لیکن یہ جنگ ہے ڈیڈی! اور یاد رکھیے جنگ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔