اتوار، 3 مارچ، 2013

کچن میں پڑنا


تو صاحبان عدل و انصاف، یہ ان دنوں کی بات ہے جب "انقلاب پاکستان " متعدد کوسٹروں اور ایک لش پش لینڈ کروزر کی قیادت میں لاہور سے روانہ ہو چکا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ اسی دن مام ڈیڈ ایک وفات کی وجہ سے سرگودھے جانے پر مجبور ہو گئے اور ہمیں اس شہر بے اماں میں اکیلا چھوڑ گئے، اب ہم تھے اور ہماری تنہائی۔  ان تین دنوں میں یا تو چوکوری ابلاغی ڈبہ تھا یا پھر کچن! کچن اس لیے کہ حلق کو سیراب اور پیٹ کو شاداب کیے بغیرکچھ بھی ہرا ہرا نہیں لگتا ، پاک نیٹ بھی نہیں۔فیس بک تو ویسے ہی نیلی ہے۔


          یاد نہیں کبھی کچنی مصنوعات بارے سوچا بھی ہو، بس چائے بنانا اپنی دانست میں آتی تھی (ہے!) اور توس سینکائی سے جیم لگائی تک اپنے کچنی تصرفات ختم ہو جاتے ہیں ، جیسا کہ اکثر مرد حضرات اپنی سرشت میں بقول خواتین کے "نان کوا آپریٹو" واقع ہوتے ہیں اور ہم نے تووہ کیا کہتے ہیں  ابھی شادی وادی بھی نہیں بنائی ۔  خیر ان تین دنوں میں یہ عجیب سا رجحان جسے ضرورت ایجاد کی ماں کا نام بھی دیا جا سکت ہے اور ہڈ حرامی کے اعلیٰ درجات پر فائز ہونے کی "پاداش" بھی جہا جا سکتا ہے(( اب کوئی سگھڑ پن نہ کہہ دے:ڈڈ)) ۔۔۔۔۔ کہ ہم جیسے خانہ خراب کی توجہ کچن کا خانہ خراب کرنے کی طرف ہو گئی۔ ہاں تو اور کیا!اب کون روز بریڈ اور انڈے یا نان چنے یا حلوہ پوری یا فلاں فلاں لے کر آئے اور اگلی بھوک پر فیر ایہی کشٹ! کیوں نا کچن میں طبع آزمائی کی جائے ((اگرچہ بعد میں یہ زورآزمائی ثابت ہوئی))۔


          صبح صبح ( میر امطلب کم از  11 بجے کے بعد )اٹھ کر اور کچھ نہ سوجھا تو دو عدد نان بلےکے تندور سے لانے کے بعد چائے بنانے کی سوجھی۔ شاید اس جذبہ عمل کا محرک یہ تھا کہ چائے برائے فروخت تو ہوتی ہے برائے پارسل نہیں دیکھی گئی۔ایک حل یہ بھی ہو سکتا تھا کہ نان لے کر کسی ہوٹل کی راہ لی جاتی ، اللہ اللہ خیر سلا۔ لیکن اب تو گھر تشریف آور ہو چکے تھے اور ایک دفعہ گھرآنے کے بعد دوبارہ صرف "اتی" سی بات کے لیے ہوٹل ایک دشوار گزار سا کام لگتا ہے۔ چائےازمنہ وسطی میں  پہلی دفعہ نانا جی کی فرمائش پہ رات کے کسی ایسے ہی پہر بنائی تھی جب وہ سو کر اٹھ گئے تھے اور ہم کسی نسیم حجازی ناول کا اخیر کرنے کو تھے، باقی سب تو ٹھیک رہا تھا لیکن پتی "قدرے" زیادہ ہو گئی اور پھر جب نانا جی کے ساتھ خود بھی اسے نوش جان فرمایا تو ۔۔۔۔ خیر جناب صبح کا مینیو یہی طے کیا کہ آسان کام ہےاور کافی عرصے بعد ٹرائی کی لیکن چائے گزارے لائق بن گئی اور پسند کی گئی اسی نےآگے چل کر  مطبخانہ عزائم کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔


دوپہرکو فریج سے ایک آدھ چیز برآمد ہو گئی اوررات آئی تو  موت کا پیغام آ گیا۔ میرا مطلب رات تنی دیر کر دی حسب معمول کہ جب آنتیں ایسے ایک دوسرے کو کاٹنے لگیں جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے تواب اماں تو ہیں  نہیں جو کہیں "پتر کی کھانا اے" .۔۔۔ ہائے ! مائے نی میں کنوں آکھاں ۔ خیر رات کو فریج سے کچھ چاول برآمد ہو گئے اور اوون کام آگیا۔ 


صبح آملیٹ بنانے کی کوشش کی گئی ، انڈہ پھینٹ کر مرچیں دھونکیں اور نمک ڈال کر سارا ملیدہ اوپر چولہے کے ۔۔۔۔یہی ترکیب اگلی صبح جب میٹھا انڈہ بنانے کے لیے آزمائی تو منہ کی کھائی ۔ توے پر میٹھا انڈہ بنانے کے چکر میں اور پھر مزید "لذیذ" بنانے کے لیے اس میں ملائی بھی ڈال دی اور اسے "پکنے دیا" کہ کچا نہ رہ جائے اور بدمزہ معلوام نہ ہو۔وہ تو جب انڈے بیچارے نے "سی سی" شروع کی تو دیکھا کہ "برننگ انجری" واقع ہو رہی تھی!  اتارتے اتارتے کوئی 40 فیصد انڈا ، انڈا کم اور کباب کا منظر زیادہ پیش کر رہا تھا۔ بہرحال بندے نے کھایااور اس معرکے پر پھولا نہ سمایا۔


دوپہرکو اس طرح ناغہ ہوا کہ صبح دوپہر کا اکٹھا "ناشتہ کم لنچ" کیا تھا اور شام کو نظر تھی شامی کباب پر! جی آمیزہ تیار تھااور ہمیں بزعم خود اس کے بنانے کی ترکیب بھی  آتی تھی  ۔یہ ترکیب جب لڑا کر "لذیذاور خستہ"  شامی کھا کر خوش بھی ہو لیے تو اماں کا فون آیا، بڑے فخر سے کارگزاری بیان کی کہ خو پکاکر کھا رہا ہوں ۔۔۔۔ "ذرا مجھے بھی تو بتا کیا بنایا ہے "۔اب جو ترکیب بیان کی ہے تو "لیکن اماں وہ کچھ کچھ کچے لگ رہے تھے"  ۔ " انہیں آئل میں تلانہیں تھاکیا؟"، "نہیں بس انڈے میں ٹکیاں ڈال کر توے پر تل لی تھیں " :ڈڈ۔۔۔۔"آئل میں تلتے ہیں بےوقوف! توے کا بھی ناس مار دیا ہو گا"،  بس اس کے بعد کئی دفعہ حلیم مصالحہ کی ڈبیا پر لکھی ترکیب دیکھ کر سوچتا رہا ہوں حلیم بنانا سیکھ لوں اماں سے ،اور سیکھ بھی لوں  لیکن موقع بموقع تبصروں کو ہضم کرنا اپنے بس کی بات نہیں ہے بابا!!

جمعرات، 14 فروری، 2013

دو منظر ایک سٹیٹس


بلاگ پوسٹ صادر ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا ( ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے تو بالکل بھی نہیں)، پھر مزید" افاقہ" تب ہوا جب کئی احباب نے ہمیں تاریخ ویلنٹائن ایک بار پھر سے ازسرنو ازبر کروا کےشکریے کا موقع دے دیا۔ مسئلہ لیکن دو عدد مناظر اور ایک عدد فیس بکی سٹیٹس سے ہوا جن کا ذکر آگے آئے گا۔ ابتدا میں البتہ یہ ذکر برمحل ہو گا کہ سارا سوشل میڈیا کل رات سے آج رات تک عید محبت کی حقیقت کھول کھول کر بیان کرنے کی محنت شاقہ میں مصروف ہے، مضامین سے لیکر پوسٹرز اور تصاویر سے لیکر سلوگن اور جانے کیا کیا کچھ۔ سب اس کو برا سمجھتے ہیں ،آزادانہ اختلاط کو جائز کوئی بھی نہیں رکھتا،اگرچہ دروغ برگردن راوی آج ایک محترمہ نےکسی ٹی وی چینل پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت خدیجہ سے شادی کو یوم محبت کی دلیل بنانے کی کوشش فرما بھی دی ہے لیکن بہرحال یہ استثنائی "کیفیات"  ہیں ،عموما ابھی تک  خود اس میں گٹوں گوڈوں تک ڈوبےمنڈے کھنڈے یا  احباب و اصحاب بھی اسلام کو بہرحال اپنے طرز عمل کے لیے زحمت نہیں دیتے۔

         
          میں نے آپ نے  بھی شاید ہی کسی دن خاص اس دن کی نسبت سے کوئی تقریر وعظ وغیرہ سنا ہو کسی ملا ملانے کا،  لیکن بنیادی اقدار اور اخلاقیات ایسی "چیزیں" اور پھر اسلامی اخلاقیات (عرف "خاص" میں غیرت برگیڈ) ،یہ سب ہمیں ایک حد تک رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں ۔ اندر سے  ایک آدھ آواز ضرور آجاتی ہے! ۔ وجہ یہ کہ ہماری نسل نے اپنے بڑوں اور ماحول سے ایک غیر محسوس طور پر یہ چیزیں حاصل کیں اور دلائل اور اپنے طرز عمل سے سے قطع نظر آج ہم جائز ناجائز کی انہیں حدود قیود کو پسند کرتے ہیں۔


          لیکن اب ماحول ویسا نہیں رہا، گلوبل ولیج کی "آنیاں جانیاں" بہت کچھ بدل رہی ہیں۔ اب بچے  بڑوں سے زیادہ ماحول سے سیکھ رہے ہیں ، اور بڑے بھی پہلے کی طرح بچوں کو سکھانے میں مستعد نہیں ہیں ۔ کمانے کھانے کی فکر تک تواولاد کی تربیت اب بھی کی جاتی ہے، اور ایسی کہ باید و شاید۔۔۔۔ لیکن "بندے کا پتر" بننے کے عمل میں اس بے چارے  کو بڑی حد تک آزاد چھوڑدیا جاتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کیریر منتخب کرنے میں بچے آزاد ہیں ، ایسے ہی اپنا صحیح غلط بھی خود یکھ لیں گے! اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ والدین بچوں کو اور ان کے ماحول کو خود اپنے ماحول پر قیاس کرتے ہیں کہ جیسے انہوں نے سیکھا تھا یہ بھی سیکھ جائیں گےاور وہی اقدار و روایات جو ان کی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے!

         
          آج پیدل چلنے کا موڈ بنا تو پیدل ہی صدر کی طرف چل نکلا ، راستے میں تیسری چوتھی کلاس  کے سکول سے واپس   آتے بچوں سے ٹاکرا ہوا جبکہ ان کا ٹاکرا کالج سے گھر جاتی ایک لڑکی سے ہو رہا تھا۔سب نے  ہاتھوں میں موجود پتیاں محترمہ کے اوپر پھینکیں اور باجماعت ہیپی ویلنٹائن ڈے کا نعرہ لگادیا۔ یہ بچے اپنے ارد گرد سے سب ہضم کر رہے ہیں اور کیپیٹل ازم کے کولہو میں بیل کی طرح جتے والدین انہیں وہ کچھ دے نہیں پا رہے ہیں جو آگے چل کر انہیں اپنی بنیادوں سے مربوط رکھ سکےگا۔ اور یہ وہ خلا ہے جو وہی پر کر سکتے ہیں ان کے علاوہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ بچے جو والدین سے ،اور جیسا والدین سے سیکھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر وہ سکھانے والے بنیں تو!


          آج سے 15 20 سال پہلے تک ہم بہت سے ان اوزون لیئرز کے ساتھ زندہ تھے جو مہلک تابکاری اثرات کو ہم سے کافی دور رکھنے پر قادر تھیں ، لیکن اب  میڈیا کی اخلاقی حدود و قیود سے آزادی، موبائل فون جیسی نعمت غیر مترقبہ اور  انٹرنیٹ جیسے "ملٹی پرپز" کلوروفلورو کاربنز (CFC)نے ہمارا "ڈائریکٹ ایکسپوژر" شروع فرمایا ہوا ہے!! ہمارے خاندانی نظام کے تاروپود گزشتہ دس برسوں میں  بکھرتے دیکھے جا سکتے ہیں ، ہاں اتنا ہے کہ یہ سب کچھ یکبارگی نہیں سنار کی ٹھک ٹھک کے حساب وقوع پذیر ہو رہا ہے اس لیے "سنائی" ذرا کم دیتا ہے۔


          ایک سال بعد ہمیں شرم و حیا کا پرچار یاد آتا ہے ، ایسے ہی جیسے میلاد النبی پر دھوم دھڑکا کرکے اگلے ربیع الاول تک عشق رسول "پینڈنگ" لسٹ میں ، پھر راوی اور سکون اور چین! ۔ بچوں کو صرف اسی پہلو سے نہیں ، ان تمام پہلوؤں سے جن پر میڈیا انہیں سکھانے پڑھانے کی پوری کوشش کر رہا ہے ، وعظ و تبلیغ کی بجائے ٹھیک اسی انداز میں گائیڈ کرنے کی شدیدضرورت ہے جن خطوط پر میڈیا غیر محسوس انداز میں زہر انڈیلتا ہے۔کبھی آپ نے ایک موضوع کے طور پرپردے  کو ڈسکس ہوتے دیکھا چینلز پر! بہت ہی کم، لیکن عملا جو دکھایا جاتا ہے وہ خود ہی آمادہ" عمل" کر ڈالتا ہے ، کیا ضرورت ہے دلائل کےجھنجھٹ میں پڑنے کی ، بی پریکٹیکل! سو بچوں کو والدین کی راہنمائی کی  جتنی ضرورت آج اس پہلو سے ہے ،شاید پہلے نہ تھی۔ ویلنٹائن ڈےتو  اصل چیلنج کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے ،ٹپ آف دی آئس برگ کی طرح ۔


          یہ رویہ اب ہم بہت دیکھ لیے کہ"کچھ نہیں ہوتا" اور "خیر ہے اس سے کیا ہوتا ہے؟"۔  کم از کم گزشتہ دس سالوں میں جو تبدیلی ہم نے  دیکھی ہے اور جتنی تیزی سے اس کو مزید آگے جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، اس کے بعد ہمیں یہ "مٹی پاؤ" ڈاکٹرائن ترک کر دینا چاہیے۔ ورنہ اباحیت اور جنسی آوارگی کی کوئی حدود متعین نہیں ہیں ۔ 20 کروڑ کے ملک میں ایک آدھ فیصد کو چھور کر کوئی بھی اس طرف نہیں چاہتا جہاں مغرب کا اخلاقی نظام "پہنچ" چکا ہے، لیکن اس کے لیے شعوری کوشش چاہیےصاحب! گر یہ نہیں ہے بابا تو سب کہانیاں ہیں۔


          فیس بک پر ایک تصویر آج کافی گردش میں ہے جس میں ایک  پارک میں سورہ نور کی آیت کا بورڈ لگا ہے اور اس کے عین نیچے دو نوجوان ایک بینر لیے کھڑے ہیں جس پر دو عدد" مورحضرات "بنے ہیں اورتحریر ہے کہ "قریب آنے دو، پیار ہونے دو"!۔ ان کے نزدیک یہ محض شغل میلا رہاہو گا اور حضرت مفتی صاحب کی طرف سے اس پر فتوی بھی بڑے  آرام سے جاری ہو سکتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں سوچے گا کہ یہ لاعلمی ہے تو کس کا قصور ہے؟ والدین  تو عقیقہ پر بکرا دلوا کر اور ایک ناظرہ قرآن پاک  کے ختم پر قاری صاحب کو سوٹ تحفے میں دے کر مسلمانی کے حق سے سبکدوش ہو گئے، اور مولانا صاحب جمعے میں نور بشر اور رفع الیدین آمین پر خطیب دوراں کا خطاب پا گئے ۔۔۔۔ اور یہ" مسلمان کی اولاد"گواچی گاں کی طرح "جائیں تو کہاں جائیں" کی تصویر!  شاید ہم اس وقت کے انتظار میں ہیں جب مصر کی طرح یہاں بھی یونیورسٹیز میں اسلام کا اتنا کال پڑ جائے گا کہ نماز کے لیے جگہ تک مختص نہیں ہوا کرے گی (جب پڑھے گا کوئی نہیں تو ایسی بےکار جگہوں کا کوئی مفید مصرف تو ڈھونڈ ہی لیا جاتا ہے !) اور جامعہ ازہر کی طرح یہاں تہاں مساجد و منبرپر مسند نشین اسلام کو اس کی کوئی پروا نہ ہوگی، گمراہوں کی پروا ویسے بھی کیا کرنی!


          سونے پر سہاگہ وہ ٹیپ کا مصرعہ ہےجو آج بھی ایک سٹیٹس پر دیکھا کہ " اس یلغار کا مقابلہ مساجد کے منبر و محراب ہی سے کیا جا سکتا ہے!"۔ ماشاء اللہ میڈیا کے 100 سے اوپر چینلز پلس انٹرنیٹ کی حشرسامانیاں  اور منبر و محراب سے مقابلہ! مندرجہ بالا سلوگن کو  ہر طبقے میں بڑا پسند کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے اپنی اپنی وجوہات ہیں ، مذہبی حلقے اس لیے کہ وہ پہلے ہی یہ کام کر رہے ہیں ، مبنر و محراب ہی تو سنبھالے ہوئے ہیں اور کیا کریں ۔۔۔۔ کیا کوئی اور یہ سنبھال سکتا ہے ، بھئی شکریہ ادا کرو ان کا،پنج وقتہ نماز تک رک جائے گی لوگوں کی!! اوردوسری طرف معاشروں کی نبضیں دیکھتے   اور پالیسیوں پر حسب منشا اثر اندز ہوتے گھاگ"دانشور" بھی تو اس عظیم کردار پر مطمئن ہیں۔ وہی  جو یہ چاہتے ہی نہیں برملا اعلان بھی کرتے ہیں کہ :پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے۔۔۔۔۔ انہیں اس سے بہتر اور کیا چاہیے کہ جس اسلام کو بڑی مشکل سے کھینچ کھانچ کر مسجد تک محدود کیا تھا ، خود اسی کے "مستند نمائندے" اپنا دائرہ کار منبر و محراب کو قرار دے رہے ہیں ۔  تو اور کیا! کتنے فیصدی  لوگ  مساجد میں دروس اٹینڈ کرتے ہیں؟؟ اور کتنے فیصد کا اعتبار کسی عالم  اور اس کے علم پر اتنا ہے کہ وہ مسائل زندگی میں ان سے راہنمائی چاہیں؟؟ اور اس پر طرہ تو یہ کہ خود علماء کہلانے والے کتنے ہیں جو راہنمائی کرنے کے قابل بھی ہوں !! جنہیں اپنے مسلکی جھگڑوں سے اوپر بھی کوئی سوچ فکر نصیب ہو اور جو جدید دنیا اور اس کے مسائل بارے جانکاری رکھتے ہوں ! کتنے ہیں ؟؟


          پھر عشروں کے عشرے منبر و محراب سے الحاد و بے دینی اور اباحیت و بے حیائی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کی ناگزیر ضرورت کا درس اور "پانی سر سے گزر چکا" کے الارم۔۔۔ بمقابلہ آزاد میڈیا کے چند سال ! لوگ آپ تک کہاں آئیں گے ، میڈیا ہی کو دیکھ لیں جو گھروں میں گھسا ہے پھر اب جو دکھاتا ہے دیکھتے ہیں! آپ کو لوگوں تک جانا ہے ،ہر ممکن ذریعے سے ۔۔۔  اپنے قدموں پر چل کر جانے سے لیکر  ہوا کی لہروں کے دوش سمع و بصر کے ذریعے، غیر اسلام کے  آنے  کے ہر راستے پر اسلام کو کھڑا تو کریں کریں! پھر دیکھیں لوگوں کی فطرت جاگتی ہے یا نہیں !!۔۔۔۔ لوگوں کو بلانا ہےاور بتانا ہے کہ یہ دین کسی قسم کی پاپائیت کا تصور نہیں رکھتا، جتنا جتنا جس کا علم ہے وہ اس کے لیے ذمہ دار ہے اور اہل علم اس بات کے اضافی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے علم میں اضافہ کریں ، حق کو چھپائیں ناں اور باطل کے لیے مداہنت پر راضی نہ ہوں ۔ ہاں !صاحبان منبر و محراب بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں اگر وہ تھوڑا سا زحمت فرما کرمحض وعظ سنانے کے علاوہ لوگوں کے مسائل میں شریک بھی ہونا شروع کر دیں  اور اس بڑے طبقے  تک خود پہنچیں جو کسی بھی وجہ سے ان تک نہیں پہنچتا۔ عکاظ کے بازار اور طائف کے خون آلود راستےآج بھی یہی دعوت عمل دے رہے ہیں!

پیر، 4 فروری، 2013

کشمیر کی یاد میں !


کل ایک اور کشمیر ڈے ہے.  پرانے بورڈ پھر سے اسلام اباد ہائی وے کے اطرف میں کھڑے کر دیےگئے  ہیں جن پر حق خود ارادیت کی حمایت میں نعرے درج ہیں ۔ ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی اور پریس کلبز تک ریلیاں اور واکس ہوں گی ، حق تو یہ ہے کہ حق ادا ہو گیا!


          تین جنگیں کشمیر کے خواب دیکھ دیکھ لڑنے  اور نتیجتا رن آف کچھ سے لیکر کارگل تک علاقے گنوانے کے بعد  ،90 کا  ایک پورا عشرہ پورے ا سلامی جوش و جذبے سے جہادکشمیر کی آبیاری اور پچھلے عشرے میں اتنی ہی تندہی سے  اس کی بیخ کنی کے بعد، آج ہم اور "ہمارا" کشمیر  تجارتی بس سروس اور خیر سگالی کے بنتے مٹتے نشانات کے درمیان گھرا کھڑا ہے!


          کشمیریوںکی  تین نسلوں کو امید و بیم کے عذاب سے دوچار رکھنے کے بعد آج کشمیر یوں کا پاکستان یا پاکستان کا کشمیر سالانہ بیانات، کشمیر کمیٹی کے اجلاسوں اور کھوکھلی سفارت کاری میں کہیں دور  دفن ہو کر رہ گئے ہیں ۔ 48 میں قبائلی سرینگر کے دروازے پر تھے تو آگے بڑھنے کے احکامات کا گلا دبوچ لیا گیا، 65 میں جبرالٹر تو 99 میں  کارگل نے امید پیدا کی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔


          اور صورتحال یہ ہے کہ لاہور گوجرانوالہ سے لیکر کراچی حیدر اباد تک بلا مبالغہ ہزاروں جوانوںکا لہو کشمیر کو پاکستان بنانے کے لیے ایک ایسی جنگ میں بہہ چکاہےجو  ایک عشرے بعد شایدکسی سرے لگنے کے قریب تھی کہ اسے  سرحد پار دراندازی تسلیم کر کےتقریبا اس کا گلا دبایا ہی جا چکا ہے۔ ریاستی مفادات کے تحت جہاد کا نعرہ اس افسوسناک انجام سے کیوں دوچار ہوا، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن کشمیری ایک بار پھر اپنے مسیحاؤں کا ساتھ دینے پر پہلے سے کہیں زیادہ معتوب اور مظلوم ٹھہر چکے ہیں ، کیا وہ دوبارہ یہ غلطی کرنے کی ہمت کر پائیں گے!


          یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہمارے ازاد کشمیر سے کہیں زیادہ تعمیر و ترقی کروائی ہے ۔ زلزلے سے پہلے بھی یہ حقیقت بالکل واضح تھی اور زلزلے کے بعد تو خیر ہم اب تک صحیح طور سے  تعمیر نو بھی نہیں کر پائے ہیں ۔ لیکن کشمیری پھر بھی کبھی راولپنڈی چلو کا نعرہ لگاتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی کشمیر چھوڑ دو کی بات کرتا ہے ، کہیں شرائن بورڈ کے خلاف سینہ سپر ہوتا ہے تو کہیں ہاتھ میں پتھر اٹھائے کنٹرول لائن کی طرف مارچ کرتا ہے۔اور ہم بس اسی پر خوش کہ ان کے دلوں میں اب بھی پاکستان بستا ہے ، وہ ہمارے ہیں ہم ان کے ہیں ،خلاص!


          ہم نے کشمیریوں کو مایوس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔سفارت کاری یا عسکریت، دونوں میں سے ایک کام بھی تسلسل سے جاری رکھاجائے تو حل ناممکن نہیں ہوتا۔حال ہی میں فلپائن کی مسلم تحریک کے سامنے حکومت نے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ لیکن ہم نے مستقل مزاجی سے دونوں پٹریاں حسب منشائے امریکا بہادر بدلیں تو کبھی  تجارت اور اعتماد کی بحالی کے خوشنما نعروں میں کشمیریوں کو رول کر رکھ  دیا۔  سید علی گیلانی کی آنکھوں میں بے وفائی کا کرب دیکھنے کے لائق ہوتا ہے ، اور اب تو مدت عمر الحاق پاکستان کی مالا جپنے والے اس بزرگ نے گلہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔فوجی دور حکومت میں شاید وہ اسے مجبوری سمجھتے ہوں لیکن اسی پالیسی کا تسلسل "جمہوری انتقامی" حکومت میں بھی اسی شدت کے ساتھ جاری رہا ہے جو سب کے سامنے ہے ۔ توبار بار کے ازمائے کو کیا آزمانا!!  "تاریخی"قومی موقف ایک طرف،  سوال یہ ہے کہ کشمیری ہمارے ساتھ کیوں شامل ہوں؟؟   آزادی کا مطالبہ تو انسان کی فطرت ہے لیکن کیا الحاق پاکستان کے علاوہ آزادی کا کوئی راستہ طریقہ نہیں ہے؟؟


          پاکستان کی پالیسی قلابازیوں کے درمیان، اس وقت کشمیریوں کے پاس شاید سب سے بہترین آپشن یہی بچا ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ خو د مختاری کا مطالبہ بھی کریں ۔ حریت کانفرنس شاید یہ مطالبہ کبھی نہ کر سکے کیونکہ اس سے پاکستان کی نام نہاد رہی سہی سپورٹ بھی ختم ہونے کا خطرہ ہے لیکن موجودہ نسل جب پاکستانی حسن سلوک کا تجزیہ اور موازنہ کرنے بیٹھے گی تو شایدانہیں  اس کے علاوہ اور کوئی چیز بہتر نظر نہ آئے۔
          لیکن حل چاہتا کون ہے؟ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی سے یہ تلخ حقیقت پھر سے نکھر کر سامنے آ گئی ہے کہ دونوں ہی ممالک کی افواج مسئلہ کشمیر کے حل کا رسک نہیں لے سکتیں ۔ مسئلہ کشمیر ہی وہ بنیادی کاروبار ہے جس میں دونوں اطراف کے کروڑر کمانڈر اور جرنیل(سنگھ) حضرات پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں کیے بیٹھے ہیں ۔ وہ اس سونے کی چڑیا کو "حلال" نہیں کریں گے ۔ نہ کرنے دیں گے!!


          آثار نظر ا رہے ہیں کہ شاید کچھ دنوں تک جہاد کشمیر کے قریب المرگ گھوڑے میں پھر سے جان ڈلوائی جائے اورراہنمایان قوم ایک بار پھر سے اعلائے کلمۃ الحق کا وظیفہ کرتے نظر آئیں۔اس لیے اگلی دفعہ بھی شاہراہ اسلام آباد پر خیر سگالی کے یہی بورڈر کام آئیں گے اور ہم بھی انسانی زنجیروں کے کسی  ایسے ہی روح پرور منظر کا حصہ بن کر  کشمیریوں کو پیغام دیں گے کہ ہم تمہارے حق کے لیے ہزار سال تک لڑیں گے !

کشمیر بنے گا پاکستان



اتوار، 27 جنوری، 2013

سلیقہ اظہار غم


اظہار غم بھی عجیب ہی چیز ہے  ، انا پرستوں کی نظر میں انسان کتنا بھی ہلکا کیوں  ہوجائے لیکن  اپنے غم کو اٹھا باہر پٹختا ہے ۔ رونا چیخنا چلانا اور ایسے ہی فوری اظہار کے طریقے وقتی اشتعال کو کم بھی کرتے ہیں اور زہریلے مادوں  کو اندر مزید زہر گھولتے رہنے سے بھی شاید روک دیتے ہیں ۔


دوسری طرف "انا" کا پرچم اٹھانے  والے اپنا شملہ تو اونچا رکھتے ہی ہیں لیکن بہرصورت دو میں سے ایک بات سے نہیں بچ پاتے یا تو جلتے جلتے کندن ہو رہتے ہیں۔ مسلسل ہلکی آنچ پر پکتے رہنا۔۔۔۔۔ پر کندن سے پہلے "ایک آنچ" کی کسر بھی رہ جائے تو کیمیا گر ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔ دوسری صورت میں  پتہ نہیں اب اس لمحے کو آگہی کہیں گے یا ستم ظریفی کہ مدت عمر غموں کو دل کی کشادگی اور دھیمے پن کی چبھن لیے سمونے والا شاید "سیچوریٹ" ہو گیا ہے ؟؟  اندر اور گنجائش نہیں رہی اور سیم تھور کی طرح نمی اور نمکینی واپس سطح پر آنا شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔ ایسا ہوتا ہے لیکن کم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "کندن"  کہانی بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کس کے ساتھ کہاں تک پہنچی ہے ۔  "آخری آنچ "تک کیا کہا جا سکتا ہے!


سلیقہ اظہار غم تب "حسب ذائقہ" اور "حسب بندہ" مختلف صورتوں میں پھوٹتا ہے ۔چپ کی بادشاہی، شاعری کا روگ ، لکھنے کی لت، سوچنے کی بیماری یا خود اپنی ذات سے بے نیازی ۔ ۔ ۔ اور بھی ہزار رنگ ہیں اس ایک "سمسیا" کے!"


لیکن ساتھ ہی ساتھ اندر سے نقب لگ کے ہی رہتی ہے ، شگاف بڑا ہی ہوتاجاتا ۔ ۔ ۔روح کا وہ خلا جس سے بھاگا نہیں جا سکتا ۔ جس کو بھرنے کی ایک ہی صورت ہوتی ہے کہ "سب کہہ دو"!لیکن کیسے ؟  دوا ہی سے تو  پرہیز ہوتا ہے ! روح کی تعمیر میں شاید جسم کی تخریب !! لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تعمیر بھی ہوتی ہے کہ نہیں،کون کہہ سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اس کندن بننے میں خود اندر ون استعمال ہوتا  چلا جا تا ہے ،خود کو خود جلاتا ہے  جلتا ہے ، کٹتا ہے  کاٹتاہے۔


پھر حلم اور بردباری جیسی "آخری آنچ" کے بعد آتی ہے ، بس دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔۔۔۔پر آخری آنچ آتی کب ہے؟؟کاش کوئی بتا دے ! کسی نے
 “wisdom is nothing more than healed pain” کہہ کر بڑی بات کم لفظوں میں تو ٹھونسی ہے لیکن شاید یہ نہیں بتاسکا کہ روح کی بیشتر کھڑکیاں کھلنے کے بعد بھی وہ تشنگی کبھی دور نہیں ہو سکتی جو زاروقطار رونے اور کسی کندھے پر سر ٹکا کر ہر چھوٹی بڑی بات کہہ کرہو جاتی ہے۔ فطرت ہے ۔۔۔۔ کمزور انسان کتنا بھی طاقتور ہو جائے ، کتنا لڑ سکتا ہے !!   

اتوار، 20 جنوری، 2013

محمد قطب




محمد قطب ، سید قطب کے بھائی اور ان سے دو برس چھوٹے ہیں.93 سالہ محمد قطب 4 اپریل 1919 کو اسیوط (مصر) میں پیدا ہوئے. 1940 میں قاہرہ یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ماسٹرز کیا اور بعد ازاں اساتذہ کے ایک تربیتی پروگرام کے تحت تربیت اور نفسیات پر ڈپلومہ مکمل کیا. محمد قطب 1954 میں پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے اور کچھ عرصے بعد رہائی عمل میں آئی . 1965 میں دوبارہ اسیری آئی اور چھے سال جیل میں گزارے. رہائی کے بعد ستر کی دہائی کے اوائل میں وہ سعودی عرب منتقل ہو گئے جہاں وہ اب تک مقیم ہیں.

"
ایں ہمہ خانہ آفتاب است" کے مصداق محمد قطب نے اپنے بھائی کی طرح مغربی فکر کے تاروپود بکھیرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی تحریکی میدان میں بے نظیر کام کیا ہے. اس ضمن میں خود انکے بیان کے مطابق وہ اپنے بڑے بھائی سید قطب اور اپنے ماموں احمد حسين الموشي سے متاثر ہوئے جو خود شاعر و ادیب تھے اور صحافت و سیاست کے جانے پہچانے شہسوار تھے. (1)یہی وجہ ہے کہ نفسیات و انسانیات جیسے پیچیدہ موضوعات تک پرمحمد قطب کے طرز تحریر میں دھیمے ادبی رنگ کے ساتھ زبان کی چاشنی پڑھنے والے کو مسحور کر دیتی ہے.

سعودی عرب منتقل ہونے کے بعد استاذ محمد قطب مختلف سعودی جامعات سے منسلک رہے ہیں جن میں جامعہ ام القریٰ سرفہرست ہے. اس دوران ان نگرانی میں بہت سا تحریکی اور علمی کام ہوا ہے. رہے وہ خودتو ان کی 40 کے لگ بھگ تصنیفات کا کینوس تربیت و تزکیہ ، دعوت و تحریک اور مسلمانوں کے فکری مسائل سے لیکر جاہلیت جدیدہ اور اسلام و مغرب کی کشمکش کی مختلف جہات تک وسیع ہے. دل میں اتر جانے والے ادبی اسلوب کے ساتھ ساتھ محمد قطب بھی حسن البنا اور سید قطب کے نقش قدم پر اس طرح چلتے نظر آتے ہیں کہ موضوع خواہ کوئی ہو،تزکیہ اور دل کو قران کے نو ر سے منور کرنے کی ایک ایسی رو ساتھ ساتھ چلتی ہے جس میں حکایات اور پرتکلف طریقوں کو چھوڑ کر آیات قرانیہ اور اسوہ نبوی سے دلوں کو غذا فراہم کرنے کا عنصر غالب ہے۔


جو خصوصیت محمد قطب اور ان کی تحریروں کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ انسانی علوم (ہیومینٹیز) اور نفسیات (سائیکالوجی) پر ان کی دسترس اور مغرب کے انسانی علوم اور علم النفس میں قائم کردہ نظریات کا علمی و عقلی تجزیہ ہے"دراسات في النفس الإنسانية"،" في النفس والمجتمع"،"حول التأصيل الإسلامي للعلوم الاجتماعية " خاص اس حوالے سے لکھی گئی ہیں جبکہ دوسری تصانیف میں بھی موقع بموقع یہ خصوصیت نظر آتی ہے.

 
استاذ محمد قطب اخوانی پس منظر ، مصر کے تحریکی عمل کا بہت قریبی مشاہدہ کرنے اور پھر اس کے بعد سعودی عرب کے سلفی علماء سے یکساں سلسلہ جنبانی کے باعث اخوان کی "معاصرت" (modernity) اور سلفیت کی اصالت(tradition) کا حسین امتزاج کہے جا سکتے ہیں ان کی دعوتی فکر کا لب لباب یہ ہے کہ مسلمان معاشروں میں (لا الٰہ الا اللہ کی اصل حقیقت برائے نام کی رہ گئی ہے ،جبکہ مفہوم کے لحاظ سے اجنبی ہو چکی ہے، جسے واپس ان معاشروں میں لائے بغیر نہ تو یہ معاشرے آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی نظام اسلامی کے قائم کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے.اس باب میں لاالٰہ الا اللہ کے فراموش کردہ مفہوم کا سبق معاشروں کو دوبارہ پڑھانا، اور اسی کی بنیاد پر حق و باطل کو الگ کر کے دکھائے بغیر نشاۃ ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ مفصلا دعوت اسلامی کے طریقہ کار کے حوالے سے ان کی فکر کا نچوڑ " کیف ندعوا الناس؟" اردو میں" دعوت کا منہج کیا ہو؟"کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔

  تربیت کے حوالے سے ان کی کتب میں ".مكانة التربية في العمل الإسلامي"،".دروس تربوية من القرآن الكريم"،" دراسات قرآني" وغیرہ شامل ہیں ۔"شبہات حول الاسلام" ایک اور اہم تصنیف ہے جس میں مغرب سے متاثر اذہان و قلوب کو اسلام کے حوالے سے زیادہ تر پیش آنے والے شبہات کو دور کیا گیا ہے. اس کا اردو ترجمہ "اسلام اور جدید ذہن کے شبہات" کے نام سے ہوچکا ہے.حال ہی میں "مفاہیم ینبغی ان تصح" (اپنے اسلامی مفہومات درست فرما لیجئے!) کے ابتدائی کچھ حصے کا ترجمہ بھی سہ ماہی ایقاظ میں شائع ہوا ہے. ذاتی طور پر ہنوز میں ایمان کے حوالے سے استاذ کی کتاب " لا إله إلا الله عقيدة وشريعة ومنهاج حياة" کو "سونگھنے" سے آگے نہیں بڑھ پایا ہوں، یہ کتاب زندگی کے ہر میدان کو لاالٰہ سے مربوط کر کے اتنی خوبصورتی سے دکھاتی ہے کہ بے اختیار اسی رنگ میں رنگنے کو جی بے تاب ہونے لگتا ہے.

استاذ محمد قطب کے شاگردوں میں ڈاکٹرسفر الحوالی اور ڈاکٹرمحمد سعید القحطانی جیسی شخصیات بھی شامل ہیں، شیخ سفر الحوالی کا ڈاکٹریٹ کا مشہور مقالہ ظاهرة الإرجاء في الفكر الإسلامي (فکر اسلامی میں ارجاء کا فنامنا) استاذ قطب ہی کے زیر نگرانی لکھا گیا تھا.

اسلامی تحریکوں کا یہ "بابا" ضعیف العمر ہو چکا ہے اور مکہ میں مقیم ہے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

"""" اور آج… یہ بالفعل اجنبی ہے؛ خود اپنے لوگوں میں اجنبی؛ جو اس کو پہچانتے تک نہیں! پھر رویے اور سلوک کا انحراف اس پر مستزاد! اسلام اپنے اصل حقیقی روپ میں ان کے سامنے پیش ہو تو یہ اُس کو کسی عجوبے کی طرح دیکھتے ہیں! وہ اسلام جو کتاب اللہ میں بیان ہوا ، جو رسول اللہ ﷺ کی سنت اور سیرت میں وارد ہوا، اور جو زمانۂ اسلاف میں زمین پر ایک جیتی جاگتی چلتی پھرتی حقیقت کی مانند دیکھا جاتا رہا، اُس اسلام کو آج یہ حیران پریشان ہوکر دیکھتے.. اور سنتے ہیں!

اصلاح کے میدان میں اترنا ہے… تو معاملے کو اُس کی اصل حقیقت اور حجم میں دیکھے بغیر چارہ نہیں۔

آج… ساری محنت اگر ‘‘کردار’’ اور ‘‘عمل’’ کی اصلاح پر لگا دی جاتی ہے، جبکہ تصورات کا انحراف جوں کا توں رہتا ہے، تو اِس محنت کا کوئی بہت اعلیٰ ثمر سامنے آنے والا نہیں۔ صرف ‘‘سلوک’’ اور ‘‘اعمال’’ پر کرائی جانے والی محنت امت کو اُس انحطاط سے اوپر اٹھانے کے لیے جس میں یہ جا گری ہے ہرگز کافی نہیں۔ یہ غربتِ ثانیہ جس کا آج ہمیں سامنا ہے، اس کو دور کرنے کے لیے آج ایک ویسی ہی محنت درکار ہے جو اسلام کی اُس جماعتِ اولیٰ نے اُس غربتِ اولیٰ کو دور کرنے کے لیے صرف کی تھی۔"""""

 )مقدمہ: "مفاہیم ینبغی ان تصح " اردو ترجمہ از حامد کمال الدین(
 إن الله لم ينزل "لا إله إلا الله"؛ لتكون مجرد كلمة تنطق باللسان. إنما أنزلها؛ لتشكل واقع الكائن البشرية كله، لترفعه إلى المكان اللائق به.. الذي فضله الله به على كثير ممن خلق.. ترفعه من كل ثقلة تقعد به عن الصعود إلى تلك المكانة العالية ومحاولة الاستقامة عليها، سواء كانت ثقلة الشهوات اللاصقة بالطين، أو ثقلة "الران" الذي يرين على الأرواح، أو ثقلة "الضرورات" التي تقهر الإنسان وتذله لطغاة الأرض المتجبرين.. ترفعه فرداً وجماعة وأمة، ليتكون في الأرض المجتمع الصالح الذي يريده الله، وتقوم في الأرض أمة لا إله إلااللہ۔

"""اللہ نے لاالٰہ الا اللہ صرف زبان سے بولنے کو نازل نہیں کیا، یہ حیات انسانی کی حقیقی صورت گری کے لیے اترا ہے تاکہ اسے ان رفعتوں سے ہمکنار کر سکے جو انسان کے شایان شان ہیں اورجن کی وجہ سے یہ دوسری مخلوقات سے افضل قرار پایا ہے۔ تاکہ یہ مٹی میں گندھی حقیر خواہشات ہوں یا روح کی پراگندگی ،یا ہتھیار ڈلوا کر کےطاغوت کے سامنے جھکنے پر مجبور کردینے والی نام نہاد "ضروریات"۔۔۔۔۔ سب سے اوپر کہیں اوپر اٹھتا چلا جائے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پربلندی کا سفر!! اور ایک ایسا معاشرے کی تشکیل جو اللہ کی چاہ رکھتا ہو اور زمین میں امت لاالٰہ الااللہ کھڑی ہو جائے !!"""

ولا يتم هذا كله بكلمة تنطق باللسان.. إنما يتم بحقيقة حية تملأ الكيان البشري كله وتسري في أعماقه، وتنبض نبضاً حياً يحرك كل ذرة فيه

""اور اس سب کچھ کی تکمیل کے لیے"زباں سے کہہ بھی دیا تو لاالٰہ تو کیا حاصل"! اس کی تکمیل توتبھی ممکن ہے جب زندگی کے تما م شعبے اس سے لبالب ہونے لگیں اور دل کی گہرائیاں اسے جذب کرتی چلی جائیں۔ روئیں روئیں میں چلتی زندہ نبض کی صورت""!!

 ) لا إله إلا الله عقيدة وشريعة ومنهاج حياة: (آن لائن ورژن صفحہ 19)

انٹرنیٹ پر استاذ محمد قطب کی ویب سائٹ ::http://muqtb.com/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مصادر::


(1)
http://www.ikhwanwiki.com/index.php?title=%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D9%82%D8%B7%D8%A8

(2)
http://muqtb.com/كتب-ومؤلفات/



جمعرات، 3 جنوری، 2013

ایک ملاقات


وسط دسمبر ایک ایسے بندے سے گفتگو کا اتفاق ہوا  جو ایک سال قبل ایکسیڈنٹ میں دونون ٹانگوں کے فریکچر کے بعد متعدد آپریشن کروا کر بھی ہنوز صاحب فراش ہے اور پتہ نہیں کب تک یہ کیفیت قائم رہے، حال احوال کے بعد میں نے ایک میسج سنایا جو دسمبر کی مناسبت سے تھا اور یوں شروع ہوتا تھا کہ
"کوئی ہار گیا کوئی جیت گیا۔۔۔۔۔ یہ سال بھی آخر بیت گیا"

وہ:"میں تو ایک سال سے بیڈ پر ہوں"

میں :"عظیم لوگ ہو، بس اللہ سے مانگا کرو وہ دینے والا ہے"

"جب انسان بیڈ پر ہوتا ہے تو اللہ سے زیادہ اس کے قریب کوئی نہیں ہوتا اور اس سے زیادہ اللہ کے قریب کوئی نہیں ہوتا!"

"اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی بھی دوست اور مددگار نہیں ہے(سورۃ الشوریٰ)"

" میں تو اللہ کے سوا کسی کو دوست نہیں سمجھا ہوا"

"تو میں نے یہ کب کہا؟پر صبر بھی جسے اللہ دے!"

"میرے اللہ نے تو مجھے اتنا نوازا ہے کہ میں شکرادا کرنے کے قابل نہیں ہوں"

"اچھا! ذرا بتانا تو کیا نوازا ہے؟" (یہ سوال میں نے اس کا رد عمل معلوم کرنے کو کیا ، لیکن دل میں ہی سوچا کہ اس بندے نے کس چیز کا شکر ادا کرنا سال سے زیادہ تو بستر پر ہو گیا ہے اسے!)

" بن مانگے ہاتھ پاؤں دیے، آنکھیں ، دیں ، کان  دیے سب کچھ تو ہے ۔۔۔۔۔ پھر ایک ٹانگیں تھورے عرصے کے لیے لی ہیں تو باقی سب تو ہے نا!"

"مجھے ہی رلا دیا ظالما!"

"رونے کی کیا بات ہوئی؟"

"بس یار اپنی ناشکریاں یاد آگئی ہیں "

مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم یادآگئے۔  ایک جگہ لکھتے ہیں کہ نفس پرستی کی ایک صورت یہ بھی  ہے کہ انسان کو جو نعمتیں  عرصہ دراز سے حاصل ہیں ،وہ انہیں  مالک کی عطا کی بجائےاپنا حق تسلیم کرنے لگے ۔۔۔ لیجئے وہ مقام ہی نکل آیا ہے مولانا کی کتاب "حقیقت شرک و توحید " سے ، انہی کی زبانی سنیے:

""ج۔ خود پرستی کی ایک نہایت اہم اور عام شکل یہ ہے کہ جو لوگ ایک مدت تک فارغ البالی اور خوشحالی کی زندگی بسر کر چکے ہوتے ہیں اور دولت و ثروت اور اکتساب علم و فن کے وسائل پر قابض رہتے چلے آتے ہیں ، کچھ عرصہ توارث کے بعد ، اس حالت امن و اطمینان کو وہ اپنا استحقاق ذاتی اور اپنے علم و قابلت کا ثمرہ سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔۔۔۔ اس کی تہہ میں اتر کو غور کیا جائے تو یہ صریح شرک ہے۔ کیونکہ دنیا کے اندر جو کچھ ہے سب کا خالق اللہ ہے ۔تمام ذرائع و وسائل اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور ان وسائل و ذرائع پر ہم اپنے جن اعضاء اور قوتوں قابلیتوں کے ذریعے سے تصرف کرتے ہیں وہ سب بھی خدا ہی کا عطیہ ہیں :

قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ    ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ 
"کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان ، آنکھیں اور دل بنائے۔ پر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو!" (الملک:23)
       
   ہمارے عروج و کمال کا کوئی درجہ، ہمارے علم و فضل کا کوئی مرتبہ اور ہماری عظمت و سطوت کا کوئی مقام ایسا نہیں ہے جو ہمیں اس کی بندگی و غلامی سے بے نیاز کر سکتا ہو۔ ہم سلیمان و ذوالقرنین(علیھما السلام)  ہو کر بھی اس کے آگے ویسے ہی محتاج اور فقیر ہیں جیسے سلمان و بوذر (رضی اللہ عنھما)۔ احتیاج و افتقار   ہماری ایک صفت ذاتی ہے جو کسی حال میں بھی ہم سے جدا نہیں ہو سکتی، خواہ ہم کتنے ہی بلند مرتبہ پر پہنچ جائیں  اور قوت و سطوت کی کتنی ہی بڑی مقدار فراہم کر لیں۔"" (ص۔60۔61)

بازار میں  ایک بدو کو عجیب سی دعا کرتے دیکھ کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا تھا کہ  یہ کیا دعا ہوئی : "اللھم اجعلنی من عبادک القلیل"۔۔۔۔۔ کہنے لگا امیر المومنین کیا آپ نے قرآن میں پڑھا نہیں " وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ  " کہ میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں !!

واقعی کم ہے یہ "شکرگزار" نامی مخلوق ۔

ہفتہ، 23 جولائی، 2011

اندھی نگری۔۔۔۔۔ کراچی!!!

اندھی نگری۔۔۔۔۔ کراچی!!!

اور آج کراچی پھر کرچی کرچی ہے۔۔۔۔۔۔22 جولائی کو دس بجے تک سکور 12 تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل23 جولائی کا دن کتنی اور کس کس کی جان لے گا ، شاید ہر کوئی اپنے گھر میں‌یہی سوچ رہا ہو گا!!!

آپ لوگ یقین کریں کہ میں کبھی کراچی نہیں گیا لیکن اس قبیل کی خبریں پڑھ پڑھ کے کہ::
"" حسن سکوائر کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جواد احمد جان بحق ہو گیا، لاش کو عباسی شہید ہسپتال پہنچایا گیا""
""گلشن اقبال کے علاقے میں محمد علی فائرنگ سے زخمی ہو گیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جناح ہسپتال میں چل بسا""

یہ خبریں پڑھ پڑھ کر پچھلے تین سال میں کراچی کے کتنے ہی علاقوں کے نام یاد ہو چکے ہیں۔۔۔۔ قصبہ کالونی، کٹی پہاڑی، اورنگی ٹاون، لانڈھی وغیرہ وغیرہ۔

کون کر رہا ہے یہ سب؟؟ بلکہ کون کون کر رہا ہے اور کروا رہا ہے سب جانتے ہیں۔۔۔۔۔ ایم کیو ایم ہو یا پیپلز پارٹی یا پھر ۔۔۔ اے این پی، اس گیم کے پیچھے "لیند مافیا" یا "ڈکیت گروپ" وغیرہ کی صورت میں یہی تنطیمیں ہیں جو ایک طرف تو دھشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ الاپ الاپ کر پاکستان کو پتھر کے دور میں پہنچا چکی ہیں اور دوسری طرف مسلح ونگ بنا بنا کر ایک دوسرے کے کارکنان کے گلے پر تو چھری پھیر ہی رہی ہیں ساتھ میں اس سے زیادہ تعداد میں غریب عوام کو اس دنیائے فانی سے فنا کر ہی ہیں!!!

مان ہی لیا کہ ایم کیو ایم "لینڈ مافیا" کی صورت زمین ہر قبضے کر رہی ہے یا کرتی ہے لیکن کیا اس سے یہ لازم اجاتا ہے کہ سب اردو بولنے والے ایک ہی صف میں کھڑے کر دیے جائیں اور کوئی بھی دوسرا لسانی گروہ اپنے مقتولین کے بدلے میں گنتی پوری کرنے کے لیے جب تک اتنی ہی تعداد میں اردو بولنے والے زمین کی پشت سے اس کے پیٹ میں منتقل نہ کر دے ، "حساب" برابر نہیں ہوتا یا بالفاظ دیگر "ٹھنڈ نہیں پڑتی"۔۔۔۔!!!

یہ بھی تسلیم کہ اے این پی طالبان کی درپردہ حمایتی ہے اور اس میں داڑھیاں منڈوا کر سوات اور وزیرستان کے طالبان شامل ہو چکے ہیں جو کراچی میں "سیکولر" عناصر کو لڑا رہے ہیں ۔۔۔ لیکن کیا یہ قرین انصاف ہے کہ ہر پتھارے والا، رکشہ ڈرائیور، چوکیدار۔۔۔۔ اور تو اور مزدور انہی میں سے ہے اور "موت کا حقدار ہے"!!! بالخصوص تب جب "کشتوں کے پشتے" لگا دینے کا حکم ہو!!!

کوئی شک نہیں کہ پی پی پی لیاری گینگ وار میں پوری طرح رحمان ڈکیت اور دوسرے سماج دشمن عناصر کی پشت پناہ بنی ہوئی ہے لیکن ساری سندھی قوم ہی کیا عرصہ حیات تنگ کر دیے جانے کے قابل ہے؟؟؟

ناقابل یقین ہے یہ بات کہ طالبان کی اس بنیاد پر مذمت کرنے والے کہ وہ معصوم عوام کا قتل عام کرتے ہیں۔۔۔۔ خود جب انسانیت کی دہلیز کو عبور کرنے نکلتے تھے تو وحشت و درندگی کا رقص کبھی بوری بند لاشوں کی صورت میں سامنے آتا تھا تو کبھی ڈرل زدہ جانداروں کی دریافت ہوا کرتی تھی۔۔۔۔ لیکن اب 21ویں صدی میں یہ کشٹ کون بھوگتا پھرے ۔۔۔۔ ایک ٹی ٹی یا زیادہ سے زیادہ کلاشنکوف ، جی ہاں "اسرائیل" سے "درآمد شدہ"۔۔۔۔۔۔ اور دیکھو بھلا ہم کل کیسے آج مرنے والوں کا بدلہ گنتی پوری کر کے لیتے ہیں۔۔۔۔۔

اب تک کتنے ہی ناموں پر سرخ نشان لگ چکا ہو گا۔۔۔۔ کتنے ہی گھروں کے گرد دائرے کھینچ دیے گئے ہوں گے اور۔۔۔۔ کتنے ہی بچے کل کا سورج اپنے باپ پر طلوع ہوتے تو دیکھ پائیں گے لیکن غروب آفتاب ان کی آرزوؤں اور امنگوں کا مدفن بھی بن جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی نہیں جانتا ، کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہ ایک اندھی نگری ہے
!!!